تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 656
تاریخ احمدیت۔جلد 23 656 سال 1966ء سعادت نصیب ہوئی۔اور انہوں نے عرصہ ملازمت میں بھی مقدور بھر دینی خدمات سرانجام دیں۔اور ریٹائر ڈ ہونے کے بعد تو وہ کلیۂ خدمت احمدیت کے لئے وقف ہو گئے۔اور سالہا سال تک جماعت احمدیہ میں بطورا میر خدمت سلسلہ بجالاتے رہے۔آپ احمد یہ مسجد نیا محلہ جہلم میں امامت کے فرائض بھی ادا کرتے رہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہایت خوش الحانی عطا فرمائی اور آپ بہت اچھے طریق پر قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے۔جماعتی فرائض کی ادائیگی میں بیماری کے باوجود پورے انہماک سے حصہ لیتے رہے۔حتی کہ اپنی وفات کے دن ا ا جون ۱۹۶۶ء تک یہ سلسلہ برابر جاری رہا۔گویا آپ کے حق میں بھی حضرت مسیح موعود کی یہ دعا حرف بحرف پوری ہوئی کہ:۔اللہ تعالیٰ سب کو اپنی رضا کی راہوں میں ثابت قدم کرے۔“ اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں بھی آپ کے درجات بلند فرمائے اور اپنے خاص قرب میں انہیں جگہ دے۔آمین یہ بیان تو اس پہلو سے تھا کہ حضرت مولوی عبد المغنی صاحب کا وجود گویا صداقت مسیح موعود علیہ السلام کی دلیلوں میں سے ایک دلیل تھا۔اور آپ کا ثبات اور استقلال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کا نتیجہ۔ذاتی طور پر بھی حضرت مولوی صاحب موصوف کے حالات نہایت ایمان افروز ہیں۔آپ کی طبیعت میں بہت تواضع اور فروتنی پائی جاتی تھی۔اختلاف رائے ہوسکتا ہے۔مگر آپ کا انداز ہمیشہ منکسرانہ رہتا تھا۔تکبر اور غرور کا رنگ نہ ہوتا تھا۔آپ ہمیشہ اپنی کمزوریوں پر نظر رکھتے تھے۔اور اللہ تعالیٰ کے حضور استغفار کرتے رہتے تھے۔مجھے آپ کو خاص طور پر قریب سے دیکھنے کا اتفاق ۱۹۴۷ء کے شروع سے ہوا ہے۔جبکہ میرے چھوٹے بھائی حافظ عبدالغفور صاحب سابق مبلغ جاپان کی شادی مولوی صاحب کی بیٹی عزیزہ امتہ الحئی سے ہوئی۔حضرت مولوی صاحب نے اس سارے عرصہ میں ایسا اعلیٰ نمونہ اسلامی شریعت پر عمل پیرا ہونے کا دکھایا ہے کہ ہم سب کے لئے قابل رشک ہے۔حضرت مولوی صاحب موصوف صلہ رحمی اور اپنے رشتہ داروں سے حسن سلوک کے لحاظ سے بھی ایک نمونہ تھے۔اپنی تینوں بچیوں اور اپنے تینوں دامادوں کے ساتھ اور اپنے لڑکے عزیزم عبدالحئی صاحب آف کویت سے نہایت اچھا سلوک کرتے رہے اور ہر رنگ میں ان کی بہبودی میں کوشاں رہے۔جماعتی تربیت کا آپ کو ہمیشہ خیال رہا۔اور مقدور بھر شہر جہلم اور ضلع جہلم کی جماعتوں کا خاص خیال رکھتے۔آپ سے ہر ملنے والا آپ کی محبت اور