تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 653 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 653

تاریخ احمدیت۔جلد 23 653 سال 1966ء پیغام حق پہنچانے کو ہی اپنا نصب العین بنالیا اور جالندھر ، ہوشیار پور، انبالہ اور لدھیانہ کے اضلاع میں پیدل دورے کئے اور مرکز سے علماء کی خدمات حاصل کر کے جلسے کروائے۔بہت سے دوستوں کو آپ کے ذریعے احمدیت قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ ہر وقت دعوت وارشاد کا لٹریچر الفضل اور مرکزی رسائل کے تازہ پرچے ساتھ رکھتے اور غیر از جماعت معززین کو مطالعہ کے لئے دیتے رہتے تھے۔اور بڑھاپے کے باجود مطالعہ میں مصروف رہتے تھے۔علاقے کی سماجی خدمات میں بھی آپ نے نمایاں کردار ادا کیا۔بیسیوں چھوٹے بڑے افسروں نے مختلف مواقع پر حسن کارکردگی کے سرٹیفکیٹ دیئے۔بہت دعا گو اور تہجد گزار بزرگ تھے۔سلسلہ کے مالی جہاد میں بھی باقاعدگی سے شامل رہے۔کئی غیر از جماعت دوستوں نے بھی سالہا سال تک ان کے ذریعہ تحریک جدید میں حصہ لینے کی سعادت پائی۔مرحوم ہر لحاظ سے احمدیت کی ایک چلتی پھرتی تصویر تھے۔ہجرت ۱۹۴۷ء کے بعد ماہنی سیال ضلع ملتان میں آباد ہو گئے۔اور موضع جنگل امام شاہ تحصیل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انتقال کیا۔آپ کے اکلوتے فرزند کا نام چوہدری محمد سلیمان صاحب ہے۔جناب میاں عطاء اللہ صاحب ایڈووکیٹ (سابق امیر جماعت احمدیہ ضلع سیالکوٹ) نے آپ کی وفات پر تحریر فرمایا :۔حضرت چوہدری عبد القادر صاحب سلسلے کے ان فدائی بزرگوں میں سے تھے جو قادیان اور کر یام اکثر جاتے رہتے۔جب سے اس عاجز سے ملاقات ہوئی۔ہر دن تعلقات بڑھتے گئے۔میرے ہاں کئی کئی دن قیام فرما لیتے۔مرحوم نہایت با قاعدگی اور پابندی سے اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کے لئے تہجد میں دعائیں کرتے۔رات کا بڑا حصہ عبادت میں گزارتے۔۔۔۱۹۲۹ء سے ۱۹۳۷ء کے درمیانی عرصہ میں ان کے دینی جوش کو دیکھنے کے چند خاص مواقع ملے۔ایک مناظرہ جو بڑا معرکۃ الآراء تھا۔روپڑ میں ہوا۔جس میں فریق مخالف کی طرف سے مولوی عبداللہ روپڑی اور مولوی ابراہیم سیالکوٹی کا نام مجھے خصوصیت سے یاد ہے۔مولوی عبداللہ سلسلہ کے مشہور معاند اور ایک عظیم نشان کے مورد سعد اللہ لدھیانوی کا داماد تھا۔اور جہاں تک مجھے معلوم ہے وہ بے اولا د تھا۔اسی طرح نہ لڑکے کی طرف سے اولا د چلی نہ لڑکیوں کی طرف سے۔ہماری طرف سے حضرت ملک عبدالرحمن صاحب خادم مناظر تھے۔