تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 643
تاریخ احمدیت۔جلد 23 643 سال 1966ء رفعت نسیم صاحبہ۔مبین الحق صاحب نزہت نسیم صاحبہ۔نگہت نسیم صاحبہ حضرت شیخ مبارک اسمعیل صاحب بی اے بی ٹی 19 ولادت : ۱۷ار اپریل ۱۸۹۰ء وفات : ۲۷ فروری ۱۹۶۶ء آپ کے والد بزرگوار حضرت شیخ مولا بخش صاحب ( کلرک ایگزامینر آف اکا ؤنٹنٹ شمال مغربی ریلوے لاہور ) حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب ثم عرفانی مدیر و موسس اخبار الحکم قادیان کے چازاد بھائی تھے دونوں نے لے فروری ۱۸۹۲ء کو حضرت مسیح الزمان کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کیا پہلے حضرت مولا بخش صاحب نے بعد ازاں حضرت عرفانی صاحب نے جو اُن دنوں مڈل سکول لاہور کے متعلم تھے۔رجسٹر بیعت اولیٰ میں زیر نمبر ۲۲۹ آپ کے اسم گرامی من ولدیت کے بعد لکھا ہے ” سکنہ حاشنہ کلاں ضلع جالندھر تحصیل نو اشہر تھا نہ راہوں، ضمیمہ انجام آتھم کی فہرست ۳۱۳ صحابہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کا نام نمبر ۲۱۶ میں رقم فرمایا ہے۔آپ کا وصال ۱۴فروری ۱۹۲۸ء کو ہوا۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی تحریر فرماتے ہیں:۔ہم عرب ہیں اور قبیلہ بنو اسد کے نام لیوا ہیں حضرت خدیجتہ الکبری رضی اللہ تعالى عنها أم المومنين بھی اسی قبیلہ سے تھیں ہمارے خاندان میں کوئی نہ کوئی بزرگ پیدا ہوتا رہا ہے ہمارا دادا ارج جس کا نام بابا قلندر علی تھا اور لوگ قلندر بابا کہتے تھے اس کی دعائیں قبول ہوتی تھیں اور جو زبان سے نکل جاتا پورا ہو جاتا۔حضرت شیخ مبارک اسمعیل صاحب اپنے والد ماجد کی نسبت تحریر فرماتے ہیں:۔”میرے والد ماجد کا اسم گرامی شیخ مولا بخش تھا۔آپ کے والد کا نام شیخ سلطان بخش تھا۔عام طور پر صوفی کے نام سے مشہور تھے۔جس کی وجہ یہ تھی کہ آپ اعلیٰ درجہ کے عابد وزاہد تھے۔ابتدائے زندگی سے ہی متقی پر ہیز گار تھے۔آپ کی ابتدائی تعلیم لدھیانہ کے مشن سکول میں ہوئی۔طالب علمی کے زمانہ سے ہی جیسا کہ حضرت پیر افتخار احمد صاحب مرحوم و حضرت منظور احمد صاحب مرحوم ( مراد پیر منظور محمد صاحب) کے بیان سے معلوم ہوا۔آپ صوفی منش آدمی تھے۔پابندی صوم وصلوۃ ،نماز اشراق و تہجد بڑے اہتمام اور پابندی سے ادا کیا کرتے تھے۔ماہ رمضان میں نوافل کثرت سے ادا کرتے تھے۔تنہائی پسند و خاموش طبیعت تھے۔غالباً آپ ماسٹر قا در بخش مرحوم والد بزرگوار حضرت عبدالرحیم صاحب درد