تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 47
تاریخ احمدیت۔جلد 23 47 سال 1965ء تقریر کے آخری حصہ میں جب آپ نے حضور علیہ السلام کے نصائح پر مشتمل اقتباسات سنائے تو حاضرین پر رقت کی حالت طاری ہوگئی۔آپ کے خطاب کے بعد مکرم بشیر احمد رفیق اور مکرم بشیر احمد صاحب شیدا اور مکرم محمود احمد صاحب مختار نے بھی مختصر تقاریر کیں۔محمد ادریس صاحب چغتائی اور سید نعیم احمد شاہ صاحب نے نظمیں پڑھیں۔نماز دکھانے کے بعد جلسہ کا دوسرا اجلاس زیر صدارت محترم صاحبزادہ صاحب شروع ہوا۔مکرم عبدالعزیز دین صاحب کی تقریر کے بعد محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے خطاب فرمایا۔آپ نے جماعت کو قربانیوں کے میدان میں ترقی کرنے کی طرف توجہ دلائی۔آپ کی یہ معرکۃ الآراء تقریر بھی ریکارڈ ہے۔اگلے دن یعنی مورخہ ۳۰ راگست کو محترم صاحبزادہ صاحب اور چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے لندن کے چوہدری اعجاز احمد صاحب کی دعوت ولیمہ میں شرکت فرمائی۔مورخه ۳ ستمبر کو محترم صاحبزادہ صاحب اور مکرم بشیر احمد رفیق دورہ پر روانہ ہوئے۔لندن سے دن کے ایک بجے روانہ ہو کر شام کے آٹھ بجے بریڈ فورڈ پہنچے۔بریڈ فورڈ میں خدا تعالی کے فضل سے چھوٹی سی لیکن مخلص جماعت موجود ہے جس کے پریذیڈنٹ چوہدری منصور احمد صاحب تھے۔انہی کے ہاں محترم صاحبزادہ صاحب کا قیام بھی تھا۔اگلے دن جمعہ تھا۔اور اسی دن مانچسٹر کی جماعت کی ملاقات کے لئے جانا تھا۔چنانچہ ۱۲ بجے بریڈ فورڈ سے مانچسٹر کے لئے روانہ ہو کر ڈیڑھ بجے وہاں پہنچے۔جماعت کے دوست قریشی عبدالرحمن صاحب کے مکان پر جمع تھے۔ان کے گھر پر ہی نماز جمعہ پڑھی گئی۔محترم صاحبزادہ صاحب نے احباب کو نصائح فرمائیں۔لوکل پریس کے رپورٹر بھی آئے ہوئے تھے جن کو محترم صاحبزادہ صاحب نے انٹرویو دیا۔انہوں نے تصاویر بھی اتاریں۔یہاں سے فارغ ہو کر آپ قریشی صلاح الدین مرحوم کے گھر تشریف لے گئے۔اور ان کی اہلیہ کا حال دریافت فرمایا۔قریشی صاحب مرحوم بہت مخلص اور تبلیغ دین کا شوق رکھتے تھے۔شام کو چار بجے محترم ڈاکٹر شاہ نواز خان صاحب کے ہاں ان کے ہسپتال تشریف لے گئے۔رات کو واپس بریڈ فورڈ پہنچے۔اگلے دن صبح جماعت احمد یہ ہڈرزفیلڈ کے ہاں جانا تھا۔ہڈرزفیلڈ بریڈ فورڈ سے ۱۵ میل کے فاصلہ پر ہے۔یہاں امینی خاندان کے پانچ احمدی گھر آباد ہیں اور نہایت مخلص ہیں۔محترم کمال الدین صاحب امینی پریذیڈنٹ ہیں۔جماعت کی طرف سے کمال الدین صاحب نے محترم میاں صاحب کو خوش آمدید کہتے ہوئے اس بات پر اللہ تعالی کا خاص شکر ادا کیا کہ انگلستان جیسے دور دراز ملک میں اور پھر