تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 638
تاریخ احمدیت۔جلد 23 638 سال 1966ء گیا تھا جب اسٹیشن پر گاڑی پہنچی تو وہاں بہت خلقت دیکھنے آئی ہوئی تھی۔حضرت صاحب انتظام کے ساتھ جو کوٹھی دریا کے کنارے پر تھی۔وہاں پہنچائے گئے۔مولوی عبد اللطیف صاحب شہید مرحوم کا بل والے جو بعد میں شہید ہوئے۔وہ بھی حضرت صاحب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے دیکھے۔خلقت کو دیکھنے کا بہت شوق تھا۔تھانیدار نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ کو ٹھے کے اوپر کرسی پر چند منٹ بیٹھ جائیں تا کہ جو خلقت آپ کو دور دور سے دیکھنے آئی ہے وہ دیکھ لے اور ہجوم کم ہو۔حضرت صاحب نے منظور فرمایا۔اور خلقت نے اچھی طرح اطمینان سے دیکھ لیا۔دوسرے دن کچہری میں پیشی تھی۔حضرت صاحب کچہری میں تشریف لے گئے۔تو مجسٹریٹ نے کہا ایک گھنٹہ بعد مقدمہ پیش ہوگا۔حضرت صاحب باہر میدان میں کرسی پر بیٹھ گئے اور تقریر کی۔بہت خلقت جمع تھی۔سب نے اس تقریر کو سنا۔تقریر ختم ہونے پر بے شمار لوگوں نے بیعت کی تقریباً ایک ہزار سے زیادہ لوگوں نے بیعت کی۔یہ مقدمہ کیا تھا گویا خدا تعالیٰ کا ایک عظیم الشان نشان تھا۔حضرت میاں صاحب قرآن شریف کے عاشق تھے۔لمبی لمبی سورتیں زبانی یاد تھیں۔صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے۔بچوں کی اصلاح کا خاص خیال رکھتے تھے۔حضرت مصلح موعود اور مبلغین احمدیت کے لئے بہت دعائیں کرتے تھے۔شب بیدار اور تہجد گزار تھے۔اور صاحب کشف بھی تھے۔اولاد کمانڈر عبداللطیف صاحب ایم۔ایس سی، پی۔ایچ۔ڈی ڈائر یکٹر زرعی یونیورسٹی لاسکپور فاطمہ بیگم صاحبہ اہلیہ خواجہ عبدالقیوم صاحب ( والدہ میجر منیر احمد صاحب شہید ) زینب بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر غلام علی صاحب ہاشمی مریم بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر میجر محمد شاہ نواز خان صاحب حضرت میاں عبدالرحمن صاحب آف جموں ولادت: ۱۸۹۶ء (اندازاً) بیعت بسن کی تعیین نہیں ہوسکی۔وفات :۲۲ جنوری ۱۹۶۶ء بعمر ۷۰ سال حضرت فیض احمد صاحب آف جموں کے فرزند اکبر اور میاں محمد ابراہیم (ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ ومجاہد امریکہ ) کے خسر تھے۔اپنے بزرگ اور احمدیت پر شیدائی اور فدائی باپ کے