تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 637
تاریخ احمدیت۔جلد 23 637 سال 1966ء تا رلگ گئی۔تھوڑے عرصہ کے بعد قادیان کے آریہ اور ہم کے عنوان پر ایک کتاب شائع ہوگئی۔دوسرے سال آئے۔تار کی جگہ دیوار بنی ہوئی دیکھی۔بوڑھا اُس سال مر گیا۔جو اس کا کوٹھا تھا وہ گر گیا۔تھوڑے عرصہ بعد اس کے وارثوں نے انجمن کے آگے فروخت کر دیا۔میں نے ایک دفعہ بہت بڑی تجارت کا کام شروع کر دیا۔بارشوں کی وجہ سے مجھے بہت نقصان ہوا۔جس کے بچاؤ کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔سالانہ جلسہ قریب تھا۔میں نے میر حامد شاہ صاحب کو کہا کہ حضرت صاحب کے آگے ہماری حالت بیان کر کے دُعا کروائی جائے۔جب ہم جلسہ پر آئے۔تو میر حامد شاہ صاحب نے خاص کہا اور ہم دونوں حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔حضرت صاحب مصلے پر مہندی لگائے بیٹھے ہوئے تھے۔میر حامد شاہ صاحب نے میری تجارت کا سب واقعہ بیان کیا اور دعا کے واسطے عرض کیا۔پھر حضرت صاحب نے میری طرف رحم و شفقت کی نظر اٹھا کر دیکھا ان کا اس وقت رحم سے جود یکھنا تھا وہ نئی زندگی عطا کر گیا۔بلکہ میری اولاد کے لئے بھی ہر لحاظ سے برکت کا موجب ہوا۔پھر لیکچر لاہور میں بمعہ اہل وعیال حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔لیکچر بہت کامیابی کے ساتھ ہوا۔لیکچر کے بعد سیالکوٹ کی جماعت نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ ایسا جلسہ سیالکوٹ میں بھی ہو جانا چاہئے۔حضرت صاحب نے منظور کر لیا۔مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹ چلے گئے۔اور جلسہ کی تاریخ مقرر ہوگئی۔حضرت جب تک سیالکوٹ میں رہے۔لنگر خانہ کا انتظام اور جلسہ گاہ کا بندو بست میرے سپرد تھا۔جب حضرت صاحب کا جلسہ گاہ میں جانے کا وقت ہوتا تو راستہ میں جھنڈاں والا محلہ جو ہے اس جگہ کا امام مسجد جو تھا اس نے لڑکوں کی جھولیوں میں راکھ ڈلوا کر بازار کی دکانوں میں بٹھا رکھا تھا۔حضرت صاحب کی جب تین فلنیں گزریں۔پولیس کا انتظام بہت تھا۔لڑکوں کو معلوم نہ ہوا کس فٹن پر بیٹھے ہوئے ہیں۔حضرت پر ہے صاحب وہاں سے گذر کر جلسہ گاہ میں تشریف لے گئے۔لیکچر بہت کامیابی اور اطمینان سے ہوا۔جب حضرت صاحب واپس قادیان تشریف لے آئے۔تو وہ حافظ امام مسجد جس نے لڑکوں کی جھولیوں میں راکھ ڈلوائی اس کو طاعون ہوگئی۔اس کا بہت بھاری کنبہ تھا۔وہ خود بھی طاعون سے مر گیا۔اس کا سب خاندان طاعون سے تباہ ہو گیا۔ان کی ایسی حالت ہوگئی کہ دو کو دفن کر کے آتے تو دومر کر اور تیار ہو جاتے۔ان کے خاندان سے ایک جو بچاوہ بھی پاگل ہو گیا۔تمام محلہ جھنڈاں والا تباہ ہو گیا۔اس کے بعد جہلم والا واقعہ میں نے دیکھا۔جب حضرت صاحب جہلم تشریف لے گئے۔میں ایک دن پہلے