تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 636
تاریخ احمدیت۔جلد 23 636 سال 1966ء میری بیعت کے لئے عرض کیا اور بیعت ہو گئی۔یہ واقعات جو دو دن قادیان میں رہا اس وقت کے ہیں۔بیعت کے بعد میں ہر جلسہ پر آتا رہا۔بلکہ عید بھی یہاں قادیان میں آکر پڑھا کرتا تھا۔عید کے دن کا واقعہ ہے بڑی مسجد میں عید پڑھنے کے واسطے سیالکوٹ کے دوست میر حامد شاہ صاحب اور چوہدری مولا بخش صاحب ہم سب گئے۔مسجد بھری ہوئی تھی۔پکی قبر کے پاس کچھ دوستوں نے کپڑے بچھا دیئے اور میر حامد شاہ صاحب بیٹھ گئے۔تھوڑی دیر بعد مولوی محمد علی صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب اور ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب آگئے۔وہ بھی اسی جگہ بیٹھ گئے۔ان کے بعد حضرت صاحب تشریف لائے ان کے ساتھ خواجہ کمال الدین صاحب اور بہت سارے دوست تھے۔میر حامد شاہ صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب سب کھڑے ہو گئے۔حضرت صاحب نے فرمایا۔مولوی عبدالکریم صاحب کو آواز دے دو۔عید پڑھا ویں آپ وہاں ہی کھڑے ہو گئے۔کیونکہ پہلے ہی قبر کے پاس میر حامد شاہ صاحب لاہور کے دوست وہاں تھے۔اور حضرت صاحب بھی وہاں ہی کھڑے ہو گئے۔دوست چونکہ بہت زیادہ تھے عید پڑھنے کے وقت جگہ تنگ ہو گئی۔ساتھ ہی ہندو کا کوٹھا ملتا تھا۔خواجہ کمال الدین اور میں نے ہندو کے کوٹھے کے بنیرے (منڈیر ) پر نماز شروع کر دی۔اگلی طرف خواجہ کمال الدین صاحب پچھلی طرف میں تھا۔نماز شروع ہو گئی تو ایک بوڑھا سا ہندو میلے کپڑے ہاتھ میں سوئی لئے ہوئے کوٹھے کے ایک کونے پر آبیٹھا۔اُس نے بولنا شروع کر دیا۔ساڈے کو ٹھے گر جائیں گے۔اس نے تو اپنے فائدہ کے لئے دکانداری شروع کی ہے۔ایسے بُرے بُرے الفاظ بولنے شروع کر دئے۔حضرت صاحب نزدیک تھے سب باتیں سن لیں۔نماز ختم ہونے کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا میر صاحب کو کہدو یہاں تار لگ جائے۔اس کے کوٹھے پر کوئی نہ جائے۔حضرت صاحب نے آگے جا کر خطبہ شروع کر دیا۔خطبہ کے آخیر میں جا کر یہ فرمایا۔میں نے آج دیکھا ہے کہ میری جماعت نے اچھا صبر کا نمونہ دکھایا ہے ہم ان لوگوں کے واسطے ہر مصیبت پر دوائیاں بھی دیتے ہیں۔اور دعا کے واسطے کہیں تو دُعا بھی کرتے ہیں۔مگر یہ لوگ گالیاں دینے سے باز نہیں آتے۔اس بات پر آکر آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔اور فرمانے لگے۔ان لوگوں کو پتہ نہیں لگتا۔طاعون آتی ہے۔ان کو فنا کرتی جاتی ہے۔ہمارے گھر کا چوہا بھی نہیں مرتا۔جب تک یہ باز نہیں آئیں گے۔عذاب بھی آتا رہے گا۔اس وقت چند ہندو بھی کھڑے تھے۔وہ معذرت کرنے لگ گئے۔ہم تو صاحب آپ کے تابعدار ہیں۔نامعلوم اس بیوقوف بڑھے کی عقل کو کیا ہو گیا ہے تقریر کے بعد فوراً