تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 635
تاریخ احمدیت۔جلد 23 635 سال 1966ء آیا ہوا ہوں میری آج بیعت کروا دو تو چلا جاؤں۔اُنہوں نے کہا شام کے وقت آپ کے لئے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کر دوں گا۔شام کے وقت نماز کے بعد حضرت صاحب شاہ نشین پر بیٹھ گئے۔اور مولوی عبد الکریم صاحب بھی ساتھ بیٹھ گئے اور میں حضرت صاحب کے پاؤں دبانے لگ گیا۔جناب مولوی صاحب نے میرے لئے عرض کی یہ ہمارے ہمسائے اور میرے دوست کے لڑکے ہیں ان کی بیعت ہو جانی چاہئے۔حضرت صاحب نے فرمایا۔یہ کب آئے ہیں۔مولوی صاحب نے فرمایا آج آئے ہیں۔حضرت صاحب نے فرمایا کچھ دن ٹھہر میں پھر بیعت ہوگی۔مولوی صاحب نے کہا میں نے آگے ہی کہا تھا مگر وہ کاروبار کی وجہ سے جلدی جانا چاہتے ہیں۔حضرت صاحب نے مجھے مخاطب ہوکر فرمایا یہاں کچھ دن ٹھہرو۔میں نے کہا کل کا دن انشاء اللہ ٹھہر جاؤں گا۔پھر حضرت صاحب مولوی صاحب کو اپنی رؤیا سنانے لگ گئے کہ آج ہم نے ایک کھائی لمبی سی کھدی ہوئی دیکھی ہے۔اور اُس کے اُوپر جانور لٹائے ہوئے دیکھے ہیں ہر جانور کے سر پر ایک ایک آدمی چھری لئے کھڑا ہے۔میں نے پوچھا یہ کیا ہے اُنہوں نے کہا یہ گوہ کھانے والی بھیڑیں ہیں ساتھ ہی اُنہوں نے چھری پھیر دی پھر نظارہ بدل گیا۔اس کے بعد دیکھا بہت سے پودے لگائے جاتے ہیں ان کے سیاہ بیج بوئے جاتے ہیں پھر نظارہ بدل گیا پھر میں نے دیکھا۔بڑا وسیع میدان ہے اور اس میں ہاتھی ادھر اُدھر بھاگے پھرتا ہے اور خلقت کی چیخ و پکار کی آواز آرہی ہے۔اور ہمارے پاس سے گذرتا ہے تو کان ڈھیلے کر کے گذرتا ہے۔پھر حضرت صاحب نے تعبیر فرمائی کہ طاعون کثرت سے پڑے گی اور ہماری غلام ہی رہے گی۔یہ جو پودے ہم نے دیکھے ہیں یہ طاعون کا بیج ہیں یہ بھیڑیں چھری پھیرنے سے معلوم ہوا کہ اس طرح کوئی رحم نہ کیا جاوے گا۔طاعون کثرت سے ہوگی پھر حضرت صاحب اندر تشریف لے گئے۔اس جگہ جو ہم اور پانچ ، چھ آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔کھانا آ گیا ہم نے کھالیا۔پھر دوسرے دن نماز ظہر کی پڑھی تو حضرت صاحب کے پاس کچھ آدمی بیٹھے ہوئے تھے ساتھ ہی مولوی عبدالکریم صاحب بھی تھے۔حضرت صاحب نے (اپنے ایک رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے ) فرمایا کچھ کاغذات ہیں میں نے دستخط کرانے کے لئے پیش کئے۔قلم کو چھنکا گیا۔سُرخ سیاہی تھی جب ہم اٹھے تو دیکھا ہمارے کپڑوں پر سرخ چھینٹیں پڑی ہوئی ہیں۔آدمی دبانے والا تھا۔وہ دیکھتا تھا کہ اوپر چھینٹیں آئیں۔اور او پر جب دیکھتا کوئی چیز نہیں۔یہ باتیں میں نے حضرت صاحب کی زبانی سنیں تھیں۔یہ مجھ کو معلوم نہیں۔اسی دن کا یہ کشف تھایا کہ پہلے کا۔پھر شام کے بعد مولوی صاحب نے