تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 634
تاریخ احمدیت۔جلد 23 634 سال 1966ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلیل القدر صحابہ کرام کا انتقال حضرت میاں عبدالرزاق صاحب سیالکوٹی ولادت : ۱۸۷۶ء بیعت و زیارت : ۱۹۰۰ ء وفات :۱۳ جنوری ۱۹۶۶ء حضرت میاں صاحب کو کس طرح احمدیت کی نعمت میسر آئی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فیض صحبت سے انہیں آسمانی نشانات مشاہدہ کرنے کی سعادت میتر آئی اس کی تفصیل انہیں کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں کہ :۔میں ۱۹۰۰ء میں کچھ بیمار ہو گیا تھا۔آٹھ دن کے بعد میں چلنے پھرنے لگ گیا۔اُن دنوں میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میری چارپائی پر بیٹھے ہیں اور ساتھ ہی کوئی تحریک کرتا ہے یہ حضرت مرزا صاحب ہیں اس کے بعد میں تجارتی کاروبار کے لئے دہلی چلا گیا۔ان دنوں میں بارش بہت ہوتی تھی مجھ کو کبھی کبھی بخار ہوتا تھا۔آتی دفعہ میرے دل میں خیال آیا میں قادیان میں جا کر حضرت خلیفہ نورالدین صاحب کے آگے اپنی بیماری کی حالت بتا کر علاج کا بندوبست کروں۔پھر میں قادیان سیدھا آگیا۔صبح سے لے کر بارہ بجے تک مولوی صاحب بیماروں کو دیکھتے رہے۔جب میری باری آئی تو خود میرے دل میں خیال آیا مجھے بیماری تو کوئی نہیں اس لئے اپنی بیماری کا ذکر ہی نہ کیا اتنے میں مسجد مُبارک میں اذان ہوئی میں نماز پڑھنے چلا گیا اور اندر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لے آئے ، جب میں نے حضرت صاحب کو دیکھا۔نماز پڑھتے میں نے سوچا یہ چہرہ جھوٹ بولنے والا نہیں ہے۔اس سے پہلے میں لوگوں کی بخشیں سنتا تھا تو اُس وقت یہ خیال آیا کہ لوگ جھوٹ ، بہتان لگاتے ہیں اُسی وقت فور ادل نے گواہی دی اسی وقت بیعت کر لو۔اگر کوئی بات قرآن وحدیث کے خلاف ہوئی پھر بھی پتہ لگ جائے گا۔اُسی وقت حضرت صاحب نماز کے بعد اندر تشریف لے گئے تو میں مولوی عبدالکریم صاحب کے پاس جا بیٹھا۔میں تو عبدالکریم صاحب کو جانتا تھا مگر وہ مجھے نہ پہچان سکے۔جب میں نے سیالکوٹ کا ذکر کیا اور اپنے والد صاحب کا نام لیا۔تو بہت خوشی سے فرمانے لگے آپ تو میرے دوست کے لڑکے ہو۔پھر میں نے عرض کیا میری بیعت کروا دی جاوے۔اُنہوں نے کہا کچھ دن یہاں رہو۔سوچ سمجھ کر بیعت کرو۔میں نے اصرار کیا بہت دنوں سے گھر سے