تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 624 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 624

تاریخ احمدیت۔جلد 23 624 سال 1966ء اے میرے عزیز درویشو ! اے اس پاک اور مقدس بستی کے مکینو! رب عزیز نے اپنے بے پایاں فضل سے ان بیوت مرفوعة کو آباد رکھنے کی ایک ایسی خدمت تمہارے سپرد کی ہے کہ اگر تم اپنی ذمہ داریوں کو کماحقہ نباہ لو اور بشاشت کے ساتھ ادا ئیگی فرض کی تلخیاں برداشت کر لو تو قیامت تک تمہارا نام رشک اور احترام سے لیا جائے گا اور آنے والی نسلیں تم پر فخر کریں گی۔آج ہمارا رب تم سے انتہائی ایثار کا مطالبہ کر رہا ہے تا وہ اپنے انتہائی فضلوں اور رحمتوں کا تمہیں وارث بنائے۔آمین یا رب العالمین۔یار (دستخط ) مرزا ناصراحم خلیفه لمسیح الثالث یکم دسمبر ۱۹۶۶ء 66 164 لنگر خانہ حضرت مسیح موعود کی جدید پختہ عمارت کا ایک حصہ مکمل ہو چکا تھا۔جس کا افتتاح سید میر داؤ د احمد صاحب نے فرمایا۔اس تقریب پر ایک لمبی اور پُر سوز اجتماعی دُعا ہوئی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کرام اور قادیان کے بزرگان کے علاوہ سیٹھ محمد صدیق صاحب بانی آف کلکتہ بھی موجود تھے۔جلسہ سالانہ ربوہ کا ذکر ہالینڈ کے پریس میں ہالینڈ کے اخبار DE ROTTERDAMMER" ROTTERDAM" نے اپنی ۲۴ دسمبر ۱۹۶۶ء کی اشاعت میں مندرجہ ذیل نوٹ شائع کیا:۔”ربوہ۔مغربی پاکستان۔مسلمانوں کے ترقی یافتہ گروہ جماعت احمدیہ کے لئے یہ مہینہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔یہ جماعت اپنے نئے امام (حضرت) مرزا ناصر احمد (صاحب) کی قیادت میں مجتمع ہورہی ہے۔تاوہ ساری دنیا میں پھر سے ایک نئے عزم کے ساتھ اپنی تبلیغ کا آغاز کر سکے۔اس سالانہ اجتماع پر ایک لاکھ سے زائد مسلمان اپنے امام کے خطاب کو سننے کے لئے جمع ہوتے ہیں۔جن کا کہنا ہے کہ خدا ان سے کلام کرتا ہے۔۔۔۔۔۔حضرت مرزا ناصر احمد (صاحب) گزشتہ سال اپنے والد کی جگہ امام مقرر ہوئے ہیں۔مسلمانوں کے اس گروہ کے لئے خدا سے کلام کا دعوی کوئی نیا دعویٰ نہیں۔اس جماعت کی بنیاد