تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 625 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 625

تاریخ احمدیت۔جلد 23 625 سال 1966ء موجودہ امام کے دادا نے رکھی تھی جن کا دعویٰ تھا کہ خدا نے خود اُن سے کلام کیا ہے۔وہ اپنے اس دعوئی کے بعد پوری طرح اپنے کام میں سرگرم عمل ہو گئے مگر اس کی وجہ سے دوسرے مسلمانوں سے اُن کے اختلاف بڑھ گئے۔عوام نے اُن کے دعوی نبوت کو ماننے سے انکار کر دیا۔کیونکہ اُن کے نزدیک محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) آخری نبی تھے۔مگر عوام کی مخالفت انہیں اپنے مشن کی تبلیغ سے باز نہ رکھ سکی۔چنانچہ یہ جماعت اب بہت سے ممالک میں اپنے قدم مضبوطی سے جما چکی ہے۔موجودہ خلیفہ کی عمر ۷ ۵ سال ہے اور وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں۔اگر چہ وہ بظاہر کوئی ایسے صوفی منش نظر نہیں آتے تاہم ان کا اکثر وقت دینی امور کی انجام دہی اور عبادت گزاری میں ہی گزرتا ہے۔بہت ہی سادہ غذا پر بسر اوقات کرتے ہیں۔غذا کا اہم جز وسویا بین ہے۔قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق وہ چار بیویاں رکھ سکتے ہیں مگر اس کے باوجود وہ اپنی پہلی بیوی سے ہی وفاداری کا اظہار کئے ہوئے ہیں۔انہیں الہام ہوا ہے کہ ان کی جماعت ( اپنی تعلیم سے ) ساری دنیا کو منو راور روشن کر دیگی۔غانا کے ملک میں اس جماعت کو بہت کامیابی حاصل ہوئی ہے خصوصاً ان لوگوں میں جو مشرک ہیں۔اور سیرالیون میں اس جماعت کی کوششوں کا ہی اثر ہے کہ وہ لوگ جو عیسائیت سے وابستہ ہوتے تھے اب اپنے مذہب سے برگشتہ ہورہے ہیں۔انڈونیشیا اور نائیجیریا میں ان کی جماعت میں شامل ہونے والے وہاں کے عام مسلمانوں - ہی تعلق رکھتے ہیں۔اس جماعت کے امام نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں ( اُن کے مشن کو ) زیادہ کامیابی اُن جگہوں پر ہورہی ہے جو پہلے پروٹسٹنٹ حکومت کے ماتحت تھے کیونکہ وہاں زیادہ آزادی ہے بہ نسبت اُن علاقوں یا ممالک کے جہاں پہلے کیتھولک حکومت کا دور دورہ تھا۔موجودہ دور میں جبکہ مسلمان اور عیسائی علماء آپس میں ایک دوسرے سے قرب کا تعلق رکھتے ہیں یا اس کے آرزو مند ہیں ) یہ جماعت جو ہالینڈ میں بھی سرگرم عمل ہے مسلمانوں اور عیسائیوں کی اس خلیج کو وسیع تر کر رہی ہے۔سے اس جماعت کا خیال ہے کہ مسیح نہ صلیب پر مرے اور نہ ہی بعد میں زندہ اٹھائے گئے بلکہ انہیں فلسطین سے ہجرت کرنی پڑی اور بعد میں وہ پھر کشمیر میں دفن ہوئے۔موجودہ امام کے دادا نے دعویٰ