تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 621 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 621

تاریخ احمدیت۔جلد 23 621 سال 1966ء گیانی گورمکھ سنگھ صاحب مسافر وزیر اعلی پنجاب ۱۳ نومبر ۱۹۶۶ء کو مرکز احمدیت میں تشریف لائے۔اس موقع پر نصرت جہاں پارک ( باغ حضرت مسیح موعود ) میں جلسے اور عصرانے کا دلکش انتظام تھا۔وزیر اعلیٰ صاحب نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ جماعت احمدیہ کے سرکردہ اراکین و حاضرین ! مجھے اس پاک استھان میں آکر خوشی ہوئی ہے۔کسی کا بھی کوئی پوتر استھان ہو۔سب کو ہی قابل تعظیم سمجھا جاتا ہے۔اس استھان کی مٹی اس مقدس وجود کی یاد دلاتی ہے۔جس کی وجہ سے یہ بھی باعث تقدیس سمجھی جاتی ہے۔اور اس شعر کے ذریعہ اپنے جذبات کی ترجمانی کی۔اور جمال ہم نشین در من اثر کرد وگرنه من ہماں خاکم کہ ہستم اس خوشی کا اظہار کرنے کے بعد بتلایا کہ میں اس جگہ اطمینان محسوس کرتا ہوں۔مجھے اپنی عمر گذشتہ کے ایام یاد آتے ہیں۔جہاں میں پیدا ہوا۔پرورش پائی۔جب ہم کانگریس کا پر چار کرتے تھے تو مسلمانوں کو بھی خطاب کرنے کے مواقع میسر آتے تھے۔اس زمانہ میں قرآن مجید کی بہت سی پاک آیات بھی یاد تھیں۔مگر اب بھول گئی ہیں۔مجھے یہ معلوم کر کے اور خود بھی دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ قادیان میں بسنے والے تمام ہندوؤں، سکھوں، مسلمانوں میں پیار و محبت کی فضا قائم ہے۔یہ پیارو محبت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ہر طرح ہم مسلمانوں احمدیوں کا خیال رکھیں گے۔آپ نے یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا کہ جماعت احمدیہ سے میرے پرانے تعلقات ہیں۔کبھی ذکر اذکار میں گیانی عباداللہ سے بیٹھ کر باتیں کیا کرتے تھے۔گیانی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ گورونانک ساڈا ہے۔میں اس بحث کو یہ کہہ کر ختم کرتا تھا۔کہ سکھ بھائیوں کو تو خوشی ہونی چاہیے کہ دوسرا بھی تمہارے گورو کو اپنا گورو کہتا ہے۔اور اس طرح دراصل وہ تمہارے گورو کی عزت کرتا ہے۔پس اس میں ناراضگی کی کونسی بات ہے۔162 جلسہ سالانہ قادیان اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا روح پرور پیغا احمدیت کے ابدی مرکز میں جماعت احمدیہ کا پچھتر واں سالانہ جلسہ ۶،۵،۴ دسمبر ۱۹۶۶ء کو نہایت کامیابی سے منعقد ہوا جس میں ہندوستان کے علاوہ پاکستان کے سو خلص احمدیوں نے بھی شرکت کی اور اُن کی قیادت کے فرائض قریشی محمود احمد صاحب ایڈووکیٹ نے انجام دیئے۔ممالک