تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 605 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 605

تاریخ احمدیت۔جلد 23 605 سال 1966ء دو تین خوشخبریاں ہیں۔ایک خوشخبری تو یہ ہے کہ ہندوستان میں جتنے غیر مبائع تھے ان کی اکثریت بیعت کر کے مبائعین میں شامل ہوگئی ہے۔جو گھرانے باقی رہ گئے ہیں۔ان کے لئے بھی دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسری خوشخبری یہ ہے کہ یوگنڈا ( مشرقی افریقہ ) میں ایک سکول مکرم مختار احمد صاحب ایاز نے کھولا ہوا تھا۔وہ سکول دراصل جماعت کی کوششوں سے ہی جاری ہوا تھا۔اب انہوں نے وہ سکول جماعت کے سپر دکر دیا ہے۔اور اب وہ کوشش کر رہے ہیں کہ ایک اور سکول کھولیں۔وہاں سکول کھولنے میں بڑی رکاوٹ تھی۔سکول کی عمارت کا نقشہ پاس نہیں ہوتا تھا۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے نقشہ پاس ہو گیا ہے اور اس کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا گیا ہے جس دن سکول کا سنگ بنیا د رکھا جارہا تھا۔اسی دن اللہ تعالیٰ نے وہاں کی جماعت کو ایک اور خوشی بھی دکھائی۔ہمارے ایک مخلص احمدی تھے (جن کا نام ذکر یا کزیٹو ہے ) پچھلے دنوں جب وہاں کیا کا کے ساتھ حکومت کا جھگڑا ہوا۔اور فساد بھی ہوا تو کہا کا کے ساتھ تعلق رکھنے کی وجہ سے حکومت نے مسٹر ز کر یا کز نیٹو کو بھی گرفتار کر لیا۔ایک دفعہ انہیں آزاد کر دیا گیا۔مگر پھر دوبارہ گرفتار کیا گیا۔جس دن سکول کا سنگ بنیاد رکھا جار ہا تھا اس دن حکومت نے انہیں رہا کر دیا۔اور رہائی کے بعد وہ سیدھے مسجد میں پہنچے۔اور یہ وقت تھا جب مسجد کے ہی احاطہ میں سکول کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا تھا۔وہاں وہ بھی دعا میں شریک ہو گئے۔اور اس طرح وہاں کی جماعت کو اللہ تعالیٰ نے دو خوشیاں دکھا دیں۔مسٹرز کر یا کز نیٹو بڑے مخلص دوست ہیں۔گووہ زیادہ پڑھے ہوئے نہیں ہیں۔لیکن پھر بھی وہ قرآن کریم کے ترجمہ لو گنڈی میں مدد دیتے رہے۔اور اس کام میں روزانہ کئی کئی گھنٹے خرچ کرتے رہے۔کہا کا کے وہ قریبی دوست تھے۔ان کی نظر بندی کی وجہ سے ان کے گھر والوں کو بہت تکلیف تھی۔مجھے بھی ان کی بیوی کے خطوط دعا کے لئے آتے رہے جب وہ رہا ہوئے تو وہ گھر نہیں گئے۔بلکہ سب سے پہلے وہ مسجد میں ہی آئے اور یہ بھی اُن کے اخلاص کی ایک علامت ہے۔ایک عجیب