تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 599 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 599

تاریخ احمدیت۔جلد 23 599 سال 1966ء پانچ لاکھ دس ہزار روپیہ تک جا پہنچی۔وعدے پیش کرنے کا منظر نہایت روح پرور تھا۔جماعتوں کے عہد یدار اور افراد والہانہ انداز میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہوئے اپنے وعدے پیش کر رہے تھے۔الحمد للہ علی ذالک بعد ازاں حضور نے قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کی اہمیت اور اس ضمن میں تحریک وقف عارضی کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔اور احباب کو ان کی اہم دینی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔حضور نے اپنے اختتامی خطاب میں جو علوم و معارف کا ایک خزینہ تھا۔سورۃ حم السجدہ آیات ۳۱ تا۳۳ کی روح پرور تفسیر فرماتے ہوئے خلافت راشدہ کی اہمیت کو ایسے وجد آفریں انداز میں بیان فرمایا کہ پوری فضا خلافت احمدیت زندہ باد، حضرت خلیفہ اسیح الثالث زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔اجتماع کے افتتاحی اجلاس میں مغربی اور مشرقی پاکستان کی ۲۴۰ مجالس کے ۵۵۰ نمائندگان، ۱۲۰۰۔ارکان اور ۱۰۰۰ کے قریب زائرین شامل ہوئے۔(حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کا خدام کے نام پیغام سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے آئندہ دوسال کے لئے (حضرت ) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو خدام الاحمدیہ مرکزیہ کا صدر نامزد فرمایا۔جس سے خدام الاحمدیہ کی تاریخ میں ایک درخشاں اور زریں باب کا آغاز ہوا۔اور نو جوانانِ احمدیت کا قافلہ آپ کی قیادت میں نہایت برق رفتاری کے ساتھ آگے ہی آگے بڑھنے لگا اور ہر شعبہ حیات میں خلافت سے عقیدت ومحبت کے روح پرور نقوش نئی شان سے جلوہ گر ہونے لگے۔(حضرت ) صاحبزادہ صاحب نے عہدہ صدارت پر فائز ہونے کے بعد خدام الاحمدیہ کے نام حسب ذیل پیغام دیا:۔”میرے خدام بھائیو! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ مدیران خالد کو اصرار ہے کہ اپنی صدارت کے آغاز پر اپنے خدام بھائیوں کے نام کوئی پیغام دوں۔میری طرح آپ سب بھی بخوبی جانتے ہیں کہ صدر مجلس