تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 593
تاریخ احمدیت۔جلد 23 593 سال 1966ء کی بلندیوں تک یہ ساری کی ساری عمارت تقویٰ سے بنی ہوئی ہو۔گارا یا مٹی یا اینٹ یا سیمنٹ یا لوہا جو اس میں لگا ہوا ہو۔وہ تقویٰ میں اتنا سیچوریٹ (Saturate) ہو چکا ہوا ہو کہ وہ اینٹ اینٹ نہ رہے۔وہ سیمنٹ سیمنٹ نہ رہے۔وہ لوہا لوہا نہ رہے بلکہ جو محبت تیرے لئے ہمارے دلوں میں ہے۔اور تجھ سے جو خوف ہم اپنی روحوں میں پاتے ہیں کہ کہیں تیری ناراضگی کو مول لینے والے نہ بن جائیں۔ان دو جذبات میں ہر چیز ایسی لپٹی ہوئی ہو کہ یہی دو جذبات ظاہر و باہر اور اندر اور باطن میں ہوں۔اور مادی نہیں بلکہ حقیقۂ روحانی اجزاء سے ہماری مساجد کی تعمیر ہو۔اور تیرا نام ہمیشہ ان مقامات سے بلند ہوتا رہے۔اور ہمیشہ وہ لوگ جو اُن کی طرف منسوب ہونے والے ہوں۔اپنے نفسوں کو تیری راہ میں کلیڈ مٹا کر، تجھ پر کلیۂ شمار ہوکر تیرے نام کو ہمیشہ بلند کرنے والے ہوں اور تیری توحید خالص کی ان مکانوں اور ان مساجد سے ایسی مؤثر آواز اٹھتی رہے کہ جس کے کان میں وہ آواز پڑے اس کے دل کی گہرائیوں تک اُترتی چلی جائے۔تا کہ دنیا تجھے پہچاننے لگے۔تیری عظمت اور تیرا جلال دنیا میں قائم ہوتا کہ تیری عزت اور تیری توحید کی معرفت انسان حاصل کرے۔اور ہمارا وجود اس سعی میں کلیہ مٹ جائے اور تا کہ جب تو اپنے پاک اور مطہر اور مقدس ہاتھ سے از سر نو ہماری تشکیل کرے تو وہ خالص روحانی اور تیری نگاہ میں ایک پیاری تشکیل ہو اور تاکہ ہمیشہ تیری رضا ہمیں حاصل رہے۔جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے اس وقت دل اور روح اپنے کام میں زیادہ مشغول ہیں۔دعاؤں میں لگے ہوئے عاجزانہ جذ بہ نیستی موجزن ہے۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ میرے یہ چند فقرے ہی اس وقت کافی ہیں۔اب ہم نہایت عاجزی کے ساتھ اور اپنے جسم کے ذرہ ذرہ کی دعاؤں کے ساتھ اور اپنی روح کے ساتھ جو اس وقت کلیہ آستانہ الہی پر جھکی ہوئی ہے۔دعائیں کرتے ہوئے اس مسجد کا سنگ بنیا درکھیں گے۔اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو سُنے اور ان دعاؤں اور الہامات کا ہمیں وارث بنائے۔جو دعا ئیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے حضور کرتے