تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 592 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 592

تاریخ احمدیت۔جلد 23 592 سال 1966ء پورا شیشہ کا ہوگا۔اور ہشت پہلو ہرسہ گنبدوں میں بھی شیشہ کا استعمال تجویز کیا گیا ہے۔اس مسجد کی تعمیر کے دوران نگرانی کا کام حضور کی اجازت سے مکرم چوہدری نذیر احمد صاحب انجینئر کے سپرد کیا گیا۔رپورٹ کے بعد حضور نے جذبات تشکر سے لبریز ہوکر پر معارف خطاب فرمایا:۔تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اس موقع پر جبکہ ہم یہاں اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ اپنے پیارے مصلح موعود کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے مسجد اقصی ربوہ کی بنیاد رکھیں۔دعا کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھکتے ہوئے کہ اے ہمارے رب ! تو نے جس مکان کی توسیع کا حکم دیا تھا آج ہم پھر ایک بار اس مکان کی وسعت کے سامان پیدا کر رہے ہیں۔اگر ہم سے کوئی ظاہری یا باطنی گناہ سرزد ہو۔یا کوئی ایسی چیز ہمارے دلوں اور خیالات میں ہو جو تجھے نا پسندیدہ ہو تو ہمارے دلوں اور خیالات کو اس سے پاک کر دے تا کہ یہ گھر جو تیرے نام پر کھڑا کیا جا رہا ہے۔صرف تیرے نام کو ہی بلند کرنے والا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاما فرمایا تھا۔وَسْع مَكانَكَ ابھی جب میں دُعا میں مشغول تھا۔میرا خیال اس طرف گیا کہ وہ کونسا مکان تھا۔جس کی وسعت کے لئے اس الہام میں حکم پایا جاتا ہے تو میری توجہ اس طرف پھری کہ بعثت سے قبل جو گھر آپ نے اپنے لئے پسند کیا۔اور چنا اور جس میں اپنے وقت کا اکثر حصہ گزارا وہ خدا کی مسجد ہی تھی۔اسی لئے لوگ عام طور پر آپ کو وو مسیتل “ کہتے تھے۔تو اس الہام میں ایک یہ بھی حکم ہے کہ تم مساجد کو بڑھاتے چلے جاؤ۔نمازی میں پیدا کرتا چلا جاؤں گا۔اپنے رب کے حضور ہمارے دلوں کی گہرائیوں اور روح کی وسعتوں سے یہ دعا ہے کہ اے خدا!! ہم تیرے حکم کے ماتحت ایک اور گھر تیرے نام پر بنارہے ہیں۔تو اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کر دے کہ اس کی بنیا دوں سے لے کر اس کے مینار