تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 575
تاریخ احمدیت۔جلد 23 575 سال 1966ء تیسرے مباحثہ میں مسٹر گرین نے قرآن مجید پر اعتراض کرتے ہوئے جنوں کے متعلق سوال کیا۔مولا نائٹس نے جواب دیا کہ آیات قرآنی میں جن سے مرادالف لیلے والے جن نہیں بلکہ اس سے مراد بڑے لوگ اور لیڈر ہیں۔مسٹر گرین نے کہا کہ جب تک آپ کسی انگریزی ترجمہ کو صحیح اور مستند نہیں مان لیتے میں مباحثہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔آپ نے فرمایا یہ ترجمے شخصی ہیں۔میں ان کو صحیح مانتا ہوں لیکن اگر میں کسی جگہ سمجھوں کہ ترجمہ صحیح نہیں کیا گیا اور عربی زبان کی رُو سے اس کی غلطی ثابت کر دوں تو مجھے ایسا کرنے کا حق حاصل ہے۔انجیل کے موجودہ تراجم جو کہ سوسائٹیوں کی طرف سے شائع کئے گئے ہیں، ان کے بعض الفاظ کے ترجمہ کے متعلق آپ خود کہتے ہیں کہ اصل عبرانی الفاظ یوں ہیں۔اگر آپ کو اصل کی طرف رجوع کا حق حاصل ہے تو مجھے کیوں نہیں؟ چوتھا مباحثہ ۶ جولائی ۱۹۴۵ء حضرت مسیح کی صلیبی موت پر منعقد ہوا۔پانچواں مباحثہ ۱۳ ر اور ۲۷ جولائی ۱۹۴۵ء کو ہوا۔لیکن مسٹر گرین نے صحت کی خرابی کا بہانہ کر کے مباحثات کا سلسلہ بند کر دیا۔برطانوی پریس میں ان مباحثات کا چر چاہد میں الفاظ ہوا :۔"The Imam of the London Mosque has come into arena of open debate in London recently and is very energetic in presenting his faith to Christian opponents۔" نیز لکھا:۔"The Imam is very skillful in presenting his case and quotes literally from the Bible۔" (Society for the Study of Religions) آپ نے انگلستان کے مختلف کلبوں میں سوسائٹیوں میں اور یو نیورسٹیوں میں سینکڑوں تقاریر فرما ئیں۔آکسفورڈ یونیورسٹی میں آپ کے متعدد لیکچر ہوئے۔فروری ۱۹۳۹ء میں شہزادہ امیر فیصل (بعد ازاں والئی سعودی عرب) مسجد فضل لندن تشریف لائے۔حضرت مولانا نے وسیع پیمانے پر اُن کے اعزاز میں دعوت کا اہتمام کیا۔آپ نے دوران قیام انگلستان ہی میں اپنی معرکۃ الآراء کتاب Where did Jesus die شائع کی۔یہ گویا عیسائیت کے لئے ایک بم کی حیثیت رکھتی تھی۔اخبارات نے اس پر ریویو شائع کئے اور کتاب کی تعریف کی۔اس کے علاوہ آپ نے متعدد چھوٹے کتابچے تصنیف کر کے شائع کئے۔مثلاً Islam وغیرہ۔