تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 574 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 574

تاریخ احمدیت۔جلد 23 574 سال 1966ء اس دس سال کے دوران جو عظیم کام آپ نے کیا اس کو پوری طرح احاطہ تحریر میں لا نا تو مورخین کا کام ہے لیکن تبلیغ کے سلسلہ میں چند خاص باتیں درج ذیل ہیں:۔ہائیڈ پارک میں سپیکر کا رنر دنیا بھر میں آزادی تقریر کے لئے مشہور ہے۔اتوار کی شام کو ہزاروں کی تعداد میں لوگ یہاں جمع ہوتے ہیں اور مقررین ہر موضوع پر بلا جھجک بولتے ہیں۔کسی پر کوئی پابندی نہیں۔آج کل ٹیلی ویژن اور سینما وغیرہ کی ایجادات نے سپیکرز کارنر کی شہرت کو کچھ ماند کر دیا ہے لیکن حضرت مولانا کے زمانہ میں جب کہ یہ علاوہ علمی تقریروں کے تفریحی طور پر بھی لوگوں کے جمع ہونے کی نہایت اچھی جگہ تھی۔اس کا رنگ ہی اور ہوتا تھا، گورے، کالے، ہر مذہب وقوم کے مقررین اپنے ساتھ پلیٹ فارم اٹھائے آجاتے ہیں اور جس موضوع پر چاہیں تقریر شروع کر دیتے ہیں۔سوالات جوابات بھی ہوتے رہتے ہیں۔غرضیکہ ہائیڈ پارک کا یہ حصہ انگلستان کی معاشرت میں ایک ادارہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ہائیڈ پارک کے ایک مشہور عیسائی سپیکر مسٹر گرین ہوا کرتے تھے۔یہ صاحب پچھلے سال مجھے بھی ملے اور حضرت شمس صاحب کا دیر تک ذکر کرتے رہے اور بار بار کہتے تھے کہ بائیبل کے بھی سکالر تھے۔یہ صاحب اپنی تقاریر میں اس عقیدہ کا اظہار کرتے تھے کہ ۱۹۵۰ء میں یسوع مسیح کا نزول ہوگا۔انہوں نے ایک رسالہ The Kingdom News بھی جاری کر رکھا تھا۔حضرت مولانا شمس صاحب نے ان کو مباحثہ کا چیلنج بھی دیا جو اس نے منظور کیا۔چنانچہ حضرت مولا نائٹس صاحب کے پانچ مباحثے اس سے ہائیڈ پارک میں ہوئے طریق یہ تھا کہ دو پلیٹ فارم ساتھ ساتھ کھڑے کئے جاتے تھے ایک پر حضرت مولانا صاحب اور دوسرے پر مسٹر گرین کھڑے ہوتے تھے۔نقار میر کا وقت مقرر تھا۔پہلا مباحثہ ۲ جون ۱۹۴۴ء کو ہوا۔موضوع یہ قرار پایا کہ مسٹر گرین دو گھنٹے میں قرآن مجید پر جتنے اعتراضات کرنا چاہیں ایک ایک کر کے پیش کریں۔لیکن اس روز ایسا تصرف الہی ہوا کہ عام طور پر جو اعتراضات وہ پہلے مباحثات میں کرتے رہتے تھے وہ بھی پیش نہ کر سکے اور جو نوٹ لکھے ہوئے تھے وہ بھی غلط تھے۔دوسرا مباحثہ ۶ جون ۱۹۴۴ء کو ہوا۔اس روز حضرت مولانا نے انا جیل پر زبر دست اعتراض کئے جن کا مسٹر گرین کوئی جواب نہ دے سکے۔بعض کے متعلق کہا کہ میں نے یہ پہلے کبھی نہیں سنا۔اور اکثر کی نسبت یہ جواب دیا کہ میں تیاری کر کے جواب دوں گا۔