تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 569
تاریخ احمدیت۔جلد 23 569 سال 1966ء تو اُن میں سے بہت سے نیک دل لوگوں کو احمدیت کے قبول کرنے کی توفیق مل گئی۔حیفا پہنچتے ہی اللہ تعالیٰ نے مولوی شمس صاحب کو اچھے ساتھی اور مخلص رفیق عطا فرما دیئے۔اور احمد بیت کا پودا ان ممالک میں قائم ہو گیا۔علماء کی طرف سے فتووں کے علاوہ گاہے گاہے مخالفانہ پمفلٹ بھی شائع ہوتے تھے جن کے جواب مولا نائمس صاحب لکھتے ، چھپواتے اور شائع کرتے تھے۔عیسائیوں سے بھی مقابلے جاری رہتے تھے فلسطین کے علاوہ سال میں ایک آدھ مرتبہ مصر کا سفر بھی مولانا کو در پیش آتا تھا۔وہاں بھی جماعت تھی۔نئے احمدیوں کی پدرانہ شفقت کے ساتھ تربیت کرنا مبلغ کا اولین فرض ہے مولا نا یہ فرض بھی باسلوب احسن ادا فرماتے رہے۔ان لوگوں کی تعلیم کا بھی خیال رکھنا ضروری تھا۔میں نے دیکھا ہے کہ بلا دعر بیہ کے سب احمدی احباب مبلغ کو روحانی باپ اور خلیفتہ اسیح کا نمائندہ سمجھتے ہیں اور اس سے نہایت محبت سے پیش آتے ہیں۔مولا نا نہیں صاحب نے اگست ۱۹۳۱ ء تک بلاد عربیہ میں کام کیا ہے۔اس وقت میں نے جا کر حضرت خلیفۃ اسیح الثانی کے حکم سے آپ سے چارج لیا تھا۔میں یہ شہادت ادا کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں که مولا نائٹس صاحب نے اپنے زمانہ میں بلاد عربیہ میں نہایت عمدہ کام کیا ہے۔نہایت جانفشانی سے احمدیت کا پیغام پہنچایا ہے اور پوری تندہی سے مخالفین اسلام کا رڈ کیا ہے۔آپ نے عیسائی پادریوں کے رڈ میں پمفلٹ بھی لکھے، ان سے مناظرات بھی کئے۔بہائیوں کی بھی تردید کی مخالف علماء کے اعتراضات کے بھی جواب دیئے۔غرض آپ کا کام نہایت شاندار تھا۔آپ نے بعد کے جانے والے مبلغین کے لئے نہایت عمدہ بنیاد قائم کر دی۔آپ نے الکبابیر میں مسجد محمود کی بنیاد بھی رکھی تھی۔آپ فلسطین سے واپسی کے وقت ایک مخلص اور فدائی جماعت چھوڑ کر آئے تھے۔جزاه الله عنا احسن الجزاء۔مجھے یاد ہے کہ میں نے ان کی واپسی سے پہلے جب ان سے مشورہ کیا کہ اپنا پریس قائم کر کے ماہوار عربی رسالہ جاری کر دیا جائے تو مولانا نے مالی دشواریوں کے باعث اسے مشکل قرار دیا تھا مگران کی تیار کردہ مخلص جماعت کا یہ حال تھا کہ جونہی ہم انہیں الوداع کہہ کر ریلوے سٹیشن سے دار التبلیغ میں جمع ہوئے اور میں نے احباب کے سامنے یہ تجویز رکھی تو سب نے فوراً لبیک کہا اور قربانی کے لئے تیار ہو گئے۔چنانچہ پہلے سہ ماہی اور پھر ماہوار ” البشری جاری ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے پریس لگانے کی