تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 568 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 568

تاریخ احمدیت۔جلد 23 568 سال 1966ء فلسطین میں خدمات دینیہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب مبلغ بلاد عربیہ جنہوں نے آپ سے فلسطین مشن کا چارج لیا، پوری عمر آپ کے ان کارناموں اور معرکوں سے متاثر رہے جو مولا نا شمس صاحب نے شام وفلسطین میں سرانجام دیئے تھے۔چنانچہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔بلاد عربیہ میں حضرت زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے شام و لبنان میں اور حضرت شیخ محمود احمد عرفانی نے مصر وغیرہ میں اپنے اپنے دائرہ میں احمدیت کا پیغام پہنچایا۔لیکن احمدیت کی تبلیغ بطور مشن شمس صاحب کے زمانہ سے شروع ہوئی۔مولانا شمس صاحب نے کم و بیش چھ برس بلاد عربیہ میں بسر کئے۔شروع شروع میں آپ نے دمشق میں کام شروع کیا جس کے نیک نتائج نکلنے شروع ہو گئے۔الاستاذ منیر الحصنی جو حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کے پرانے شاگرد تھے۔مولانا شمس صاحب کے ذریعہ احمدیت میں داخل ہو گئے۔مخالفت بڑھ گئی۔علماء کی اشتعال انگیزی کے نتیجہ میں ایک جاہل نوجوان نے شمس صاحب پر خنجر سے حملہ کیا۔زخم سخت خطرناک تھا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچایا۔شام میں فرانسیسی انتداب ( کسی علاقہ کو عارضی طور پر کسی ریاست کی تحویل اور حکومت میں دینا ) تھا۔فرینچ گورنمنٹ نے شمس صاحب کو شام سے چلے جانے کا حکم دیا آپ نے بذریعہ تار حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے بغداد جانے کی اجازت طلب کی۔حضور نے مولانا کو ہدایت فرمائی کہ آپ حیفا ( فلسطین) میں چلے جائیں۔حیفا میں بھی علماء کی شورشیں بدستور تھیں۔مولانا شمس صاحب کو اللہ تعالیٰ نے علماء کے مقابلہ کی توفیق بخشی۔آپ نے جرات کے ساتھ اُن سے مباحثات کئے۔جس سے عوام پر اچھا اثر ہوا۔مخالفت بھی بھڑ کی مگر احمد بیت کا چرچا بھی گھر گھر 119 ہونے لگا۔ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ہوتی ہے۔حیفا کے قریب عکا ( فلسطین ) میں فرقہ شاذلیہ کے رئیس شیخ ابراہیم کو کافی عرصہ پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عربی خط موصول ہوا تھا۔وہ صوفی مشرب انسان تھے۔انہوں نے اپنے مریدوں کو کہا تھا کہ یہ خط محفوظ رکھو تمہیں حیفا سے امام مہدی کا پیغام ملے گا۔مولا نائس صاحب کے حیفا آنے پر جب احمدیت کی آواز اُن لوگوں کے کانوں تک پہنچی