تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 567
تاریخ احمدیت۔جلد 23 567 سال 1966ء ۱۹۴۷ء کے پرفتن اور پر آشوب دور میں جبکہ قادیان کی مقدس بستی چاروں طرف سے محصور ہو چکی تھی۔آپ نے حضرت مرزا عزیز احمد صاحب کے بعد امیر مقامی کے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیئے۔قیام پاکستان کے بعد حضرت مصلح موعود نے آپ ہی کی تجویز پر جماعت احمدیہ کے دارالہجرت کا نام ربوہ منظور فرمایا تعمیر ربوہ کے ابتدائی ایام میں آپ کچھ عرصہ قائم مقام ناظر اعلیٰ رہے۔اور ایک لمبے عرصے تک ربوہ کے جنرل پریذیڈنٹ رہے۔تحقیقاتی عدالت کے زمانے میں آپ کے قلم سے نہایت بلند پایہ لٹریچر شائع ہوا۔آپ الشرکۃ الاسلامیہ کے اولین مینیجنگ ڈائر یکٹر تھے۔اور زندگی کے آخری سانس تک جماعتی لٹریچر کی اشاعت میں مجنونانہ وار سر گرم عمل رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جملہ معرکہ آراء کتب اور ملفوظات کو نہایت نفیس اور دیدہ زیب مجلد سیٹ کی صورت میں مع تفصیلی انڈیکس کے شائع کرنا آپ کا ایک عظیم کارنامہ ہے جو قیامت تک یادگار رہے گا۔۱۹۵۶ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے آپ کو خالد کے خطاب سے نوازا۔وفات کے وقت آپ قائد تعلیم مجلس انصاراللہ مرکزیہ، ناظر اصلاح وارشاد، مینیجنگ ڈائر یکٹر الشركة الاسلامیہ اور صدر مجلس کار پرداز مقبرہ بہشتی کے عہدوں پر فائز تھے۔واقعہ وفات اور تدفین 117 آپ مورخه ۱۳ اکتوبر ۱۹۶۶ء کو صبح گیارہ بجے اپنے دانتوں کے علاج کی غرض سے سرگودھا تشریف لے گئے۔جہاں آپ پر دل کا حملہ ہوا۔علاج کے بعد طبیعت قدرے سنبھل گئی لیکن شام چھ بجے دوبارہ دل کا حملہ ہوا جس سے آپ جانبر نہ ہو سکے اور شام ساڑھے 4 بجے اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔۱۳ اکتوبر کو ہی رات سوا نو بجے آپ کا جنازہ سرگودھا سے ربوہ لایا گیا اور اسی رات دور و نزدیک کی جماعتوں کو بذریعہ ٹیلیفون اطلاع دی گئی۔۱۴۲ اکتوبر بروز جمعہ نماز جمعہ سے قبل ہی بہت سے شہروں کے امرائے جماعت اور احباب کی کثیر تعدا در بوہ پہنچ گئی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے نماز عصر کے بعد بہشتی مقبرہ کے وسیع میدان میں نماز جنازہ پڑھائی۔اس کے بعد قطعہ صحابہ بہشتی مقبرہ ربوہ میں آپ کی تدفین ہوئی۔حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب کی خدمات دینیہ کے حوالہ سے فلسطین اور انگلستان کی خدمات ایک خاص شان کی حامل ہیں اس لئے ان کا کچھ تفصیلی تذکرہ بھی نذر قارئین کیا جاتا ہے۔118-