تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 563 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 563

تاریخ احمدیت۔جلد 23 563 سال 1966ء استاذ جامعہ احمدیہ کا سفر بیروت اور حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی نصائح سلسلہ احمدیہ کے جید عالم اور استاد جامعہ احمدیہ مولوی غلام باری صاحب سیف بیروت میں عربی کی اعلیٰ تعلیم کے لیے ۱۹ اکتوبر ۱۹۶۶ء کو ربوہ سے روانہ ہوئے۔روانگی سے قبل حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے انہیں اپنے دست مبارک سے حسب ذیل قیمتی نصائح سپرد قلم فرما ئیں: ۱۹/۱۰/۶۶ علم قرآن سیکھنے کے لئے کسی کو ربوہ سے باہر جانے کی ضرورت نہیں۔آپ وہاں عربی زبان کا علم تحریر۔تقریر۔بول چال سیکھنے جارہے ہیں۔اتنا کچھ خدا تعالیٰ کے فضل سے پہلے ہی جانتے ہیں کہ ۱۰ ۱۲ ماہ میں اگر چاہیں اور کوشش کریں تو بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔انشاء اللہ۔پس پوری توجہ اس طرف دیں اور یہ ایام زندگی خصوصاً معمور الاوقات گزار ہیں۔ایک امانت آپ کے سپرد کی جارہی ہے دیانت داری سے اسے نبھائیں۔لبنان سے باہر میری تحریری اجازت کے بغیر نہ جائیں۔اگر ممکن ہو تو شام کے دوستوں سے تعلق قائم کرنیکی کوشش کریں۔سب احباب کو میرا سلام پہنچائیں اور کہیں کہ انکی پریشانیوں سے میں بہت پریشان رہتا ہوں۔دعائیں کرتا ہوں اللہ تعالیٰ اطمینان کے دن جلد لوٹا کر لائے۔آمین۔اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔مرزا ناصر احمد خلیفہ المسح الثالث ۲۶ - ۱۰۔۱۹ مولوی غلام باری صاحب سیف تحریر فرماتے ہیں: ”خاکسار کو عربی زبان کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جب بیروت بھجوایا گیا تو مجھے جامعہ بیروت العربیہ میں داخلہ ملا۔ایک سال خاکسار نے یہاں عربی ادب کی تعلیم حاصل کی اُن دنوں کلیتہ الا داب کے پرنسپل دکتور محمد عبد السلام کفافی تھے۔انہوں نے جامعہ احمدیہ کے استاد ہونے کی وجہ سے مجھ سے کوئی فیس نہ لی۔اور جامعہ سے رخصت ہوتے وقت جو سند انہوں نے دی اس میں جہاں دینی علمی ترقی کا ذکر کیا وہاں یہ بھی کہا:۔