تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 38
تاریخ احمدیت۔جلد 23 38 سال 1965ء ہمیں افسوس ہے کہ ہم نے ہاجرہ کو ابراہیم علیہ السلام کی لونڈی لکھا اور اس وجہ سے آپ کو تکلیف پہنچی۔اس نکتہ پر بحث کرنے کا یہ موقعہ پا کر بھی ہم خوش ہیں۔اصل عبرانی میں ابراہیم علیہ السلام سے ہاجرہ کی رشتہ داری کی وضاحت کے طور پر ایک لفظ استعمال کیا گیا ہے اس لفظ کے معنے بیوی“ یا ” لونڈی کے ہو سکتے ہیں۔بہر کیف ہم نے بھی یہ لفظ استعمال کرلیا۔ہمارا منشاء یہ تھا کہ سارہ اور ہاجرہ میں امتیاز قائم کیا جائے جو سابقہ کی کنیز تھیں اور قانونی سطح کی رو سے اس کے برابر نہ تھیں سارہ ابراہیم کی گھر والی تھیں۔اور ہاجرہ پر قانونی حقوق رکھتی تھیں۔اب ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ مسلم روایت کی روشنی میں ماضی کے مشہور تعدد ازدواج کے پہلو سے یہی درست ہوتا کہ ہاجرہ کو بیوی کا مقام دیا جاتا۔ہم دلگیر ہیں کہ اگر چہ نادانستہ ہی سہی ہم نے ہاجرہ کے ساتھ ایک ایسا برتاؤ نہیں کیا جو آپ کے اعلیٰ مقام ادب کے لئے ضروری تھا۔ہمیں آپ سے ہمدردی ہے کہ وہ تصاویر جن میں منی کی قربانی کی وضاحت تھی اور جن میں بکروں کی قربانی کا ذکر تھا اس میں ہم ایک ایسا لفظ استعمال کرتے جو خون خرابہ سے کم وحشت اپنے اندر رکھتا۔بہر حال ہمارے الفاظ نے یہ صریح طور پر بتایا ہے کہ یہ خونی قربانی ہے جس کی روایت کو زمانہ کی قبولیت حاصل رہی نسبتی لحاظ سے مغرب میں اس کی واقفیت نہیں۔ہمیں افسوس ہے کہ جگہ کی تنگی نے ہمیں آپ کے مکتوب کے شائع کرنے کی اجازت نہیں دی۔بخدمت مسٹر نو جوان کریم اللہ۔احمد یہ مسلم مشن اسلا ئیڈس روڈ۔مدراس ۱۴ انڈیا صدق دل سے آپ کا ( دستخط ) ویر از امر سکی۔خدام الاحمدیہ ہال (ایوان محمود ) کی تعمیر کا افتتاح قادیان سے ہجرت کے بعد سے ربوہ میں خدام الاحمدیہ مرکز یہ کا دفتر بنانے کا معاملہ زیر غور تھا۔اس وقت حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے دفتر کے ساتھ ہال اور لائبریری بنانے کا ارشاد بھی فرمایا تھا۔چنانچہ ۲۰/ اکتوبر ۱۹۶۲ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے ہال کا سنگ بنیاد رکھا۔بعض ناگریز وجوہات کی بنا پر تعمیر کا کام شروع نہ کیا جا سکا۔۱۸ر اپریل ۱۹۶۵ء کو صدر مجلس محترم صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب نے خدا کے حضور دعاؤں کے ساتھ اینٹ رکھ کر تعمیر کا افتتاح فرمایا۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے از راہ کرم اس اینٹ پر دعا فرمائی اور تعمیر کے آغاز کا سن کر اظہار مسرت