تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 539 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 539

تاریخ احمدیت۔جلد 23 539 سال 1966ء اجراء ہوا۔نگار نیاز فتح پوری کی تخلیقات اور نظریات ہی کی اشاعت کا وسیلہ نہ تھا۔ادب اردو کی خدمت میں بھی اس نے اہم کردار ادا کیا۔نیاز مرحوم نے نقد و نظر کا ایک نیا اسلوب اختیار کیا تھا۔وہ اپنا اصول تنقید یہ بتاتے تھے کہ ناقد کا کام ہے کہ ہر تصنیف کو منصفانہ نگاہ سے دیکھے اور اس کے محاسن و معائب پر انصاف سے قلم اٹھائے اور سوائے اظہار حقیقت کے کوئی اور غرض اس کے پیش نظر نہ ہو۔مرحوم جماعت احمدیہ کی عظیم الشان اسلامی خدمات کے دل سے معترف تھے۔چنانچہ آپ نے بار ہا نگار میں جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات پر اسے شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور حق گوئی کی ایک بہت اچھی مثال قائم کر دکھائی۔اخبار بدر قادیان کے نائب ایڈیٹر چوہدری فیض احمد صاحب گجراتی نے درج ذیل نوٹ سپر د قلم کیا: سحر نگار علامہ نیاز فتح پوری کی وفات“ 92 آخر پنجہ اجل نے اس نابغہ روزگار کو دبوچ لیا۔جو متواتر نصف صدی سے زائد عرصہ تک برصغیر پاک و ہند کے افق ادب پر چھایا رہا۔وہ عجیب و غریب اور حیرت انگیز انسان علم وادب کے میدان میں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا۔نگار کے صفحات میں علامہ نیاز کے قلم سحر نگار نے وہ گلہائے رنگ کھلائے ہیں کہ عقل محو حیرت ہو جاتی ہے۔کہ ایک اکیلا شخص علم وادب کے ہر میدان میں کس طرح عمر بھر سرپٹ دوڑ تا رہا۔یوں کہ تعاقب کرنے والے تھک تھک کر واپس ہو جاتے رہے۔ہندوستان بھر کے علماء کے بالمقابل وہ تن تنہا متواتر پچاس سال تک اپنے قلم کی تلوار لئے کھڑا رہا۔اور ھل من مبارز کا نعرہ لگاتا رہا۔وہ ایک نرالے حسن بیان کے ساتھ ایک انوکھے اسلوب تحریر کے ساتھ ایک حیرت انگیز طریق تخاطب کے ساتھ ” نگار کے صفحات پر چھپتا رہا۔اس کی تحریر کی سج دھج میں وہ کشش تھی کہ علم دوست طبقہ اس کی طرف کھنچا چلا آیا۔اس کے قلم میں وہ مقنا طیسیت تھی کہ ادب نواز حلقے اسے اردو ادب کا امام ماننے پر مجبور ہو گئے۔پھر دل پر ہاتھ رکھ کر کہیئے ! کیا یہ حقیقت نہیں کہ نیاز کو کافر وملحد کہنے والے بھی ہر ماہ نگار کی راہ میں آنکھیں بچھاتے تھے! یوں تو غائبانہ طور پر میں علامہ نیاز سے ایک لمبے عرصہ سے متعارف تھا ان کی ادبی رفعت و قابلیت کا معترف و معتقد تھا۔لیکن مرحوم سے ذاتی تعارف کی ابتداء ستمبر ۱۹۵۹ء میں ہوئی۔جب میں حضرت