تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 537 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 537

تاریخ احمدیت۔جلد 23 537 سال 1966ء ہوئے تھے انہوں نے سیدنا حضرت خلیفہ امسح الثالث کے ارشاد پر مورخہ ۸ مئی ۱۹۶۶ء کو بعد نماز مغرب مسجد مبارک ربوہ میں مشرقی افریقہ میں دعوت اسلام کے حالات سنائے۔مکرم ڈاکٹر صاحب کی تقریر کے بعد حضور نے بھی بصیرت افروز خطاب فرمایا جس میں آپ نے احمدی نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کرنے کی طرف توجہ دلائی۔فرمایا جو مبلغ بھی افریقہ جائیں وہ علاقہ کی مقامی زبان سیکھنے کی طرف فوری توجہ دیں اور جلد اس میں ملکہ اور کمال حاصل کریں۔نیز فرمایا ہمارے مبلغین زیادہ تر شہروں میں قیام کرتے ہیں۔انہیں شہروں میں قیام کرنے کی بجائے افریقہ کے قبائل میں زندگی بسر کرنی چاہیے۔انہیں خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر تکلیف برداشت کرتے ہوئے شہروں کی بجائے دیہات میں رہنا چاہیے۔فرمایا احمدیت اور اسلام کو جس طرح کے ہنگامی حالات کا سامنا ہے اس کے پیش نظر جہاں ہمیں لمبی تربیت کے بعد باقاعدہ مربی تیار کرتے رہنا چاہیے وہاں ہمارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ شارٹ کورس کی بنیاد پر چھ ماہ سال یا ڈیڑھ سال تک پڑھے لکھے آدمی کو ایسے رنگ میں تربیت دیں کہ وہ ایک حد تک تبلیغی کام کو صحیح طور پر انجام دے سکے۔آپ نے فرمایا کہ یہ بات نوٹ کر لینی چاہیے کہ ہمارے درمیان کسی قسم کا اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔اگر ہو جائے تو اس اختلاف کو تحمل سے برداشت کرنا چاہیے۔اگر اختلاف ذرہ بھر بھی بڑھ۔جائے تو اسلام کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔علامہ نیاز فتح پوری کی وفات اور احمد یہ پریس اردو زبان کے بلند پایہ ادیب و نقاد اور مشہور نثر نگار علامہ نیاز فتح پوری مدیر اعلیٰ رسالہ ” نگار جنہوں نے عمر کے آخری حصے میں احمدیت کی تائید میں زبر دست مضامین لکھ کر تہلکہ مچا دیا اور پھر ساری زندگی جماعت کے ساتھ مخلصانہ تعلقات رکھے۔۲۴ مئی ۱۹۶۶ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔91 اس المناک سانحہ نے تمام علمی وادبی حلقوں کو سوگوار کر دیا۔احمد یہ پریس نے ان کی شخصیت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین ادا کیا۔چنانچہ اخبار الفضل (۲۶ مئی ۱۹۶۶ء) نے علامہ نیاز فتح پوری مرحوم کے زیر عنوان لکھا:۔اردو کے مشہور ادیب علامہ نیاز فتح پوری ۲۴ مئی کی صبح کو کراچی میں انتقال کر گئے اناللہ