تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 536
تاریخ احمدیت۔جلد 23 536 سال 1966ء کرتے ہیں تو پوزیشن یہ بنتی ہے۔۶۶ - ۶۵ء کی آمد ۹۱،۴۷۷، ۲۵ روپیہ اور ۶۵ ۶۴ ء کی آمد ۶۴،۳۳۳ ۲۴ روپیہ ہوئی۔اس طرح ۶۵ ۶۴ء کی آمد کی نسبت اس سال اس وقت تک کی آمد مبلغ ۱۴۴، ۲۷، اروپیہ زیادہ ہوئی ہے اور اگر متوقع آمد ۶۰،۰۰۰ کو اس میں شامل کر لیا جائے تو ۶۶ - ۶۵ء کی آمد قریباً ایک لاکھ نوے ہزار روپیہ زیادہ ہوتی ہے۔اگر ہم ۶۶ - ۶۵ ء کی آمد کا ۶۵ ۶۴ ء کے بجٹ سے مقابلہ کریں تو یہ زیادتی قریباً اڑھائی لاکھ روپیہ (۴۶،۱۴۷ ۲۰) بنتی ہے۔جب یہ اعداد و شمار میرے سامنے آئے تو میرا دل خدا کی حمد سے بھر گیا۔اور میرے تمام احساسات اور جذبات کو اس نے اپنے گھیرے میں لے لیا۔میرے پاس وہ الفاظ نہیں اور نہ میں کھتا ہوں کہ آپ میں س کس کے پاس وہ الفاظ ہونگے جن سے ہم کا حقدا نے رب کا شکر یہ ادا کر سکیں۔میں نے یہ بھی سوچا کہ مجھے آپ کے مقابلہ میں کوئی بزرگی یا برتری حاصل نہیں۔لیکن جس رب عظیم نے اس خاکسار نابکار کو خلافت کی کرسی پر بٹھایا ہے اسی قادر و توانا نے آپ کے دلوں میں میرے لئے محبت پیدا کی۔میری زبان آپ کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور آپ میری آواز کوسن کر اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے مجنونانہ طور پر اپنے دینی کاموں میں لگ جاتے ہیں۔جیسا کہ باہر سے آنیوالی بہت سی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے وہ لکھتے ہیں کہ جب آپ کا خطبہ یہاں پہنچا تو تمام عہدیدار مجنونانہ طور پر اپنے کام میں لگ گئے اور کوشش کی کہ بجٹ کے پورا ہونے میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔اسی طرح بعض افراد نے جن کے ذمہ بڑی بڑی رقوم واجب الادا تھیں تنگی برداشت کر کے وہ رقوم ادا کر دیں۔اس طرح انہوں نے جماعت سے تعاون کیا اور خدا تعالی کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کی۔66 89 حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی مبلغین کو اہم نصائح مکرم ڈاکٹر لال دین صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ کمپالہ (یوگنڈا) ربوہ تشریف لائے