تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 535 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 535

تاریخ احمدیت۔جلد 23 535 سال 1966ء اس مسجد کو یہ امتیازی خصوصیت بھی حاصل ہے کہ احمدی خواتین نے اسے سید نا حضرت المصلح الموعود خلیفہ المسیح الثانی کے نہایت مقدس و بابرکت عہد خلافت پر ۱۹۶۴ء میں پچاس سال پورے ہونے پر اللہ تعالیٰ کے حضور میں اظہار تشکر کے طور پر یاد گار کے رنگ میں تعمیر کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔دوسری امتیازی خصوصیت اس مسجد کو یہ حاصل ہے کہ اس کی تعمیر کا منصوبہ خود سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اپنے عہد خلافت میں بنایا تھا اور لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی درخواست پر احمدی خواتین کو از راہ شفقت یہ اجازت مرحمت فرمائی تھی کہ وہ اپنے فراہم کردہ چندوں سے اسے تعمیر کریں۔پھر مسجد کی تعمیر کا آغا ز سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی راہ نمائی اور ہدایات کے بموجب آپ کے عہد خلافت میں ہوا۔اس طرح یہ خلافت ثانیہ اور خلافت ثالثہ کے دونوں مبارک دوروں کی طرف منسوب ہوتے ہوئے خلافت ثالثہ کے نئے مبارک دور میں یورپ میں تعمیر ہونے والی پہلی مسجد ہے۔نا مساعد ملکی حالات کے باوجود مالی قربانی ستمبر ۱۹۶۵ء کی جنگ میں بہت سی احمدی جماعتیں جو ضلع سیالکوٹ اور لاہور وغیرہ میں تھیں بُری طرح متاثر ہوئیں اور اپنا سارا مال و متاع چھوڑ کر انہیں اپنے علاقہ سے ہجرت کرنا پڑی۔جنگ کا خطرناک اثر بہت سے احمدی تاجروں پر بھی پڑا اور ان کی آمدنی کم ہوگئی اور اسی نسبت سے جماعت کے چندوں میں بھی کمی آگئی۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اس تشویش ناک صورت حال کو دیکھ کر ایک طرف احباب جماعت کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا اور دوسری طرف اپنے مولا کے حضور متضرعانہ دعائیں کیں۔جو عرش پر قبول ہوئیں اور احمدی جماعتوں نے نہ صرف اپنے بجٹ کو پورا کیا بلکہ بجٹ سے بھی ۶۷ ہزار روپے زائد اپنے رب کی خوشنودی کے لیے پیش کردئے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ۶ مئی ۱۹۶۶ء کے خطبہ جمعہ میں قبولیت دعا کے اس نشان پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:۔مبلغ ۱۹۷، ۶۷ (سڑسٹھ ہزار روپیہ بجٹ سے زیادہ آمد ہوئی اور امید ہے کہ ۶۰ یا ۷۰ ہزار روپیہ کی رقم جو اسی سال میں محسوب ہے جلد ہی وصول ہو جائے گی۔انشاء اللہ تعالیٰ اس طرح ۶۶ - ۶۵ء کے بجٹ کی نسبت قریباً ایک لاکھ چالیس ہزار روپیہ کی آمدنی زائد ہوگی۔جب ہم ۶۶ - ۶۵ء کی آمد کا ۶۵ ۶۴ ء کی آمد سے مقابلہ