تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 534 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 534

تاریخ احمدیت۔جلد 23 534 سال 1966ء اور محکمہ زراعت کے انسپکٹر اور دوسرے کارکن محکمہ زراعت کوئی نو دس کی تعداد میں بلائے ہوئے تھے مکرم قریشی فضل حق صاحب نے کھانے کے بعد احمدیت کے عقائد بیان کئے اور پھر ایک نہایت پرسکون ماحول میں پونے چار بجے تک مذہبی گفتگو کا موقعہ ملا۔انہوں نے کافی سوالات کئے جن کا خدا کے فضل سے تسلی بخش جواب دیا گیا۔۵ مئی ۱۹۶۶ء۔آج صبح کی نماز میں حاضری کافی تھی آج ہماری واپسی کا پروگرام تھا۔جماعت کے سارے دوستوں نے اپنی دلی دعاؤں کے ساتھ ہم کو رخصت کیا۔ہم دس بجے صبح ربوہ پہنچے۔سب سے پہلے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی رپورٹ دی۔تخت ہزارہ کے دوستوں کے لیے دعا کی درخواست کی۔اس کے بعد گھر پہنچے۔ڈنمارک کی سب سے پہلی مسجد کا سنگ بنیاد مورخه ۶ مئی ۱۹۶۶ء بروز جمعتہ المبارک ڈنمارک میں تعمیر ہونے والی سب سے پہلی مسجد کا سنگ بنیاد اللہ تعالی کے حضور عاجزانہ دعاؤں کے درمیان محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلیٰ و وکیل التبشیر تحریک جدید نے رکھا۔اس تقریب میں ڈنمارک کے نو مسلم احمدی احباب کے علاوہ ڈنمارک کے بعض سر بر آوردہ حضرات ، متعدد اسلامی ملکوں کے سفارتی نمائندوں مثلاً ڈنمارک میں ایران کے سفیر کوپن ہیگن کے وائس میر ، پاکستان، ترکی، انڈونیشیا اور متعدد دیگر ممالک کے سفراء کے نمائندوں اور مختلف ممالک کے مسلمانوں اور علی الخصوص بین الاقوامی عدالت کے جج محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب اور پاکستان کے وزیر قانون جناب ایس ایم ظفر صاحب نے بھی شرکت فرمائی۔اس کے علاوہ عالمی پریس، ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے نمائندے بھی کثیر تعداد میں تشریف لائے ہوئے تھے۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ لنڈن اور ہیگ کی عالیشان مساجد کی طرح ڈنمارک کے دار الحکومت کوپن ہیگن میں تعمیر ہونے والی یہ پہلی مسجد بھی جماعت احمدیہ کی ایثار پیشہ خواتین نے خالصہ اپنے چندوں سے بنانے کا عزم کیا ہے۔مسجد پر خرچ ہونے والی تین لاکھ روپے کی رقم کا معتد بہ حصہ انہوں نے حضرت سیدہ ام متین مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی خصوصی توجہ اور کوشش کے نتیجہ میں بحمد اللہ پہلے ہی فراہم کر دیا تھا۔