تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 533 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 533

تاریخ احمدیت۔جلد 23 533 سال 1966ء انہوں نے دو دفعہ اقرار بھی کیا کہ میں بھی احمدی ہی ہوں۔اگر خدا تعالیٰ ان کو احمدی ہونے کی توفیق دے دے تو اس کے سارے خاندان کے احمدی ہو جانے کی امید ہے۔ساڑھے بارہ بجے واپس آئے۔آج بھی موسم کی خرابی کی وجہ سے دوستوں کے گھروں میں نہ جاسکے۔۲ مئی ۱۹۶۶ء۔آج صبح کی نماز کے بعد شیخ محمد رفیق صاحب کے گھر گئے وہاں محکمہ زراعت کے چھ ملازم موجود تھے ان کو وفات مسیح اور صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں دلائل دیئے گئے ڈیڑھ گھنٹہ تک گفتگو ہوتی رہی خدا کے فضل سے انہوں نے اچھا اثر لیا۔ناشتہ کے بعد صبح آٹھ بجے باہر روانہ ہوئے پہلے دو احمدیوں کے کنوؤں پر گئے ان کو نماز با جماعت کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی گئی۔بعد ازاں موضع نصیر پور پہنچے۔معلم وقف جدید مکرم مولوی عبدالقیوم صاحب بھی ساتھ تھے وہاں ساڑھے بارہ بجے تک غیر احمد یوں کو پیغام حق پہنچایا گیا ظہر کی نماز وہاں ادا کی گئی نصیر پور کے ایک دوست جو زمیندار ہیں اور رانجھا قوم سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے بیعت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ان کو کل جمعہ کے روز تخت ہزارہ آنے کے لیے کہا گیا نصیر پور سے واپسی پر احمدیوں کے تین کنوؤں پر گئے ان کو یاد دہانی کروائی گئی۔الحمد للہ ۱۳ مئی ۱۹۶۶ ء۔آج جمعہ تھا اس لیے باہر نہیں جا سکے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے سابقہ کوششوں کا نتیجہ اچھا نکل رہا ہے گزشتہ جمعہ میں حاضری ۳۰/۱۳۵ تھی لیکن اس دفعہ بفضلہ، ۸ تعداد صرف مردوں کی تھی ۳۰/ ۲۵ /امید ہے عورتیں بھی ہوں گی۔عبدالرحیم صاحب ساقی امیر جماعت اور سابق ممبر یونین کونسل کے درمیان سابقہ تنازعات تھے دونوں کی باتیں سنی گئیں اور دونوں کو سمجھایا گیا الحمد للہ دونوں نے باہم صلح کرلی ہے اور دونوں نے بغلگیر ہوکر ایک دوسرے کو تعاون کا یقین دلا یا انشاء اللہ ان دونوں کی صلح سے جماعت کی ترقی پر خوشگوار اثر پڑے گا کیونکہ دونوں دوست اپنے اپنے دائرہ میں بارسوخ ہیں۔۱۴مئی ۱۹۷۶ء۔آج صبح سات بجے شیخ عنایت اللہ صاحب کو ساتھ لیکر ہم میاں عبدالسمیع نون ایڈووکیٹ سرگودھا کے گاؤں ہلال پور گئے۔وہاں احمدی دوستوں سے ملاقات کی گئی اور غیر احمدیوں کو تبلیغ کی گئی۔راستہ میں ایک کنواں پر تبلیغ کی گئی۔پھر موضع نصیر پور گئے وہاں ایک دوست کو ملنا تھا مگر ان سے ملاقات نہ ہو سکی۔پانچ میل کا سفر کر کے ہم واپس پونے ایک بجے تخت ہزارہ پہنچ گئے۔ایک بجے ماسٹر عنایت اللہ صاحب کے گھر کھانا پر مدعو تھے مکرم ماسٹر صاحب نے کھانا پر سکول کے ہیڈ ماسٹر