تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 35 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 35

تاریخ احمدیت۔جلد 23 35 سال 1965ء ہے۔ان مریضوں پر بعض دواؤں کے ذریعہ بیہوشی طاری کی گئی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ بعض مریضوں کو سیدھا کھڑا کر کے بیہوش کیا گیا۔ان میں سے بعض غشی اور سکتہ کی حالت میں نصف گھنٹہ رہے۔بعض کی یہ حالت کئی گھنٹے اور بعض کی ایک یا دو دن تک جاری رہی۔اور ایک مریض تو اس حالت میں مسلسل دو ہفتہ رہا تب کہیں جا کر اسے ہوش آیا۔مسیح کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر بوزن نے لکھا ہے۔۔ہوسکتا ہے کہ مسیح کی صلیبی موت پر اعتراض کو بے دینی سے تعبیر کیا جائے۔لیکن ایسی وجوہ موجود ہیں جن کی بناء پر یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ فی الحقیقت صلیب پر لٹکی ہوئی حالت میں مسیح پر غشی طاری ہوگئی تھی اور یقین یہ کر لیا گیا کہ اس کی موت واقع ہوگئی ہے۔بعد ازاں ان کی غشی کی وہ حالت دور ہوگئی اور وہ با قاعدہ ہوش میں آگئے۔ڈاکٹر بوزن نے اپنے اس نظریہ کو پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ اپنے اس نظریہ سے میں عیسائیت کو تباہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ میرا احساس یہ ہے کہ میرے نظریہ کے نتیجہ میں ان لوگوں کے لئے عیسائیت میں زیادہ کشش پیدا ہو جائے گی جو مسیح کے مرکز جی اٹھنے کی غیر فطری تو جیبہ کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔فی الحقیقت غشی سے متعلق ڈاکٹر بوزن کا یہ نظریہ نیا نہیں ہے بلکہ اس پر قدامت کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔ابتدائی زمانہ کے مسیحی کلیسیا میں (ڈومیٹسٹس نامی ایک فرقہ تھا جو یہ اعتقاد رکھتا تھا کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا بلکہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ مرگیا ہے۔یہی نظریہ باضابطہ اسلامی عقیدہ کی بھی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ مسلمانوں کی مذہبی کتاب قرآن مجید میں لکھا ہے ”یہودیوں نے مسیح کو قتل نہیں کیا اور نہ انہوں نے اسے صلیب دی وہ ان کے لئے ایک ایسے شخص کے مشابہ ہو گیا کہ جسے صلیب دے دی گئی ہو۔“ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کا ایک فرقہ یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ مسیح واقعہ صلیب کے بعد ہندوستان آیا اور وہاں چالیس سال تک رہا۔یہاں تک کہ اس نے وہیں وفات پائی۔اس کا مقبرہ جو کشمیر کے شہر سرینگر میں بیان کیا جاتا ہے خانقاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔جہاں لوگ زیارت کے لئے 166 جاتے ہیں۔آگے چل کر ایلین سپریگیٹ نے اس شدید رد عمل کا ذکر کیا جو ڈاکٹر بوزن کے نظریہ کی اشاعت پر برطانیہ میں ظاہر ہوا۔چنانچہ اس نظریہ کے خلاف اور اس کے حق میں انہوں نے متعدد پادریوں کے