تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 515 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 515

تاریخ احمدیت۔جلد 23 515 سال 1966ء اور جس دوست کو خدا نے بارہ صد روپے دینے کی توفیق دی ہو وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے بارہ صد روپیہ دے۔خاکسار نے اپنے حالات کے مطابق چھ صد روپے کا اپنی طرف سے اور چار صد روپے کا حضرت المصلح الموعود کی طرف۔کیا ہے اللہ تعالیٰ ادا ئیگی کی تو فیق عطا فرمائے۔سے وعدہ میں اپنے خدا سے یہ امید رکھتا ہوں کہ وہ احباب جماعت کو اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق عطا کرے گا اور جماعتی ضرورتوں کے مطابق ہم وقف جدید کے کام میں وسعت پیدا کرسکیں گے انشاء الله ما توفیقی الا باللہ۔والسلام مرزا ناصراحمد (خلیفه امسیح )۴/۱/۲۶ حضرت خلیفہ المسیح الثالث کا جنوبی ہند کے احباب جماعت کے نام پیغام اس سال ۱۰۰۹ار اپریل ۱۹۶۶ء کو الانلور ( نزد کالی کٹ ) میں دسویں سالانہ آل کیرالہ احمد یہ کانفرنس کا انعقاد ہوا۔جس میں صوبہ کیرالہ کی مندرجہ ذیل سولہ جماعتوں کے ساڑھے تین سو سے زائد نمائندے شامل ہوئے۔منار گھاٹ، کرولائی ، پتا پریم، چیلہ کرا، ایرا پورم، کوڈے تور، پالگھاٹ، کرونا گا پلی، کالیکٹ ، کینانور، کوڈالی، پینگاڈی، مرکزہ ، منگلور، موگرال، کمبلہ۔ان جماعتوں کے علاوہ حسب ذیل مقامات سے بھی احمدی احباب تشریف لائے۔نلامبور، واستنام ،ای او تا گئی وہم ، پنول، یونانی، ریزوم۔جلسہ سے مولوی بشیر احمد صاحب دہلوی، مولوی حکیم محمد دین صاحب ( مبلغ انچارج میسور سٹیٹ ) مولوی محمد عمر صاحب ( سیکرٹری جنوبی ہند احمد یہ تبلیغی مشن ) اور مولوی محمد یوسف صاحب نے خطاب فرمایا۔صوبہ کیرالہ کے اخبار ماتر و بومی ۱ اراپریل ۱۹۶۶ء) اور منور مانے کا نفرنس کی مفصل رپورٹ شائع کی۔16 اس اہم کا نفرنس کے موقع پر حضرت خلیفہ اصبح الثالث نے حسب ذیل روح پرور پیغام ارسال فرمایا:۔