تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 505 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 505

تاریخ احمدیت۔جلد 23 505 سال 1966ء خلافت ثالثہ کے عہد کی پہلی مجلس مشاورت خلافت ثالثہ کے مبارک عہد کی پہلی مجلس مشاورت ۲۵ تا ۲۷ مارچ ۱۹۶۶ء کوتعلیم الاسلام کالج ربوہ میں منعقد ہوئی۔جس میں مغربی اور مشرقی پاکستان اور آزاد کشمیر سے پانچ سو اناسی نمائندگان نے شرکت فرمائی۔(اس تاریخی شوری کی کارروائی مولوی محمد صادق صاحب انچارج صیغہ زودنویسی کی زیر ہدایت مولوی سلطان احمد صاحب فاضل پیر کوئی نے قلمبند کی۔لاؤڈ سپیکر کے منتظم حسب معمول قاضی عزیز احمد صاحب اور ہال میں نشستوں کی ترتیب اور دیگر انتظامات چوہدری عبدالقدیر صاحب سپرنٹنڈنٹ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری نے دوسرے کارکنان کی مدد سے سرانجام دئے۔رپورٹ مئی ۱۹۶۶ء میں مرتب ہوئی اور افروری ۱۹۶۷ء کو منظر عام پر آئی۔رپورٹ کے کا تب محمد ارشد خوشنویس ربوہ تھے اور یہضیاءالاسلام پریس ربوہ میں چھپی تھی )۔سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے افتتاحی تقریر میں سب سے پہلے احباب کو یہ خوشخبری دی که تفسیر صغیر بلاک اور نفیس آرٹ پیپر پر دو ہزار کی تعداد میں چھپ گئی ہے اور بقیہ تین ہزار چھپنے والی ہے اور اگر چہ اس پر خاصہ خرچ آیا ہے تاہم اس عکسی ایڈیشن کی قیمت صرف پچیس روپے رکھی گئی ہے دوستوں کو چاہیئے کہ حسب ضرورت زیادہ سے زیادہ تعداد میں اسے خریدیں۔اس تفسیر کی مانگ غیروں میں بہت ہے۔اگر احمدی بچے جن کی عیدی کم و بیش ہیں روپے ہو اپنی عیدی کی رقم سے یہ کتاب خریدیں تو ہر ایسے بچے کو میری طرف سے ایک روپیہ بطور عیدی دیا جائے گا۔اس ضمن میں حضور نے فرمایا:۔تفسیر صغیر کی نظر ثانی میں مکرم مولوی ابوالمنیر نور الحق صاحب نے بڑا حصہ لیا ہے۔مکرم شمس صاحب نے بھی کام کیا ہے۔مکرم ابوالعطاء صاحب نے بھی ایک حد تک کام کیا ہے اور پروف ریڈنگ کے وقت مکرم میاں عبدالحق صاحب رامہ نے بھی کام کیا ہے۔رامہ صاحب پروف اچھی طرح دیکھتے ہیں۔چنانچہ ان کے سامنے جب بھی کوئی بھی چیز آئی۔انہوں نے ہمیں اسکی طرف توجہ دلائی اور خاکسار بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے شروع سے آخر تک اس کام میں شریک رہا۔اس کے علاوہ اللہ