تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 502 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 502

تاریخ احمدیت۔جلد 23 502 سال 1966ء کتاب بائیل ہے اور جس طرح بائیبل کی آیات کی مختلف تشریحات و توضیحات سے متعدد فرقے پیدا ہوئے ہیں جو سب کے سب عیسائی ہیں بعینہ اسی طرح قرآن کریم کی تشریح سے بھی مختلف اور متعدد فرقے وجود میں آئے ہیں لہذا کسی فرقہ کو اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جاسکتا۔دراصل تجدید و احیاء کی بنیاد پر چرچ اور فرقہ میں فرق اور امتیاز کرنا ہمیشہ سے ہی ایک نہایت مشکل اور نازک مسئلہ رہا ہے۔اسلام نے اپنی ساری روایات میں کبھی بھی علماء کو حکم نہیں مانا ( یعنی جس طرح کیتھولک چرچ عقائد کے معاملہ میں اجارہ داری رکھتا ہے اور دینی معاملہ میں پوپ ہی اصل حکم ہے نہ کہ کتاب اور کسی کو اختلاف رائے کی آزادی نہیں دی جاتی اس طرح اسلام میں ہرگز نہیں۔اسلام میں اصل حکم کتاب اللہ۔سنت رسول اور حدیث ہیں۔ناقل ) اور پھر دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قرآن کریم جو ایک ہی وجود محمد ( صلے اللہ علیہ وسلم) کی لائی ہوئی کتاب ہے بائیبل کی نسبت لسان مبین میں کلام کرتی ہے اور بائیبل کا یہ حال ہے کہ اس میں مختلف لوگوں کی باتوں کو بعد میں جمع کیا گیا ہے۔“ احمدیت اسلام کی مختلف شکلوں میں سے ایک شکل ہے مگر یہ اسلام کی ایک ایسی صورت (FORM) ہے جو اسلام کی نمائندگی کرنے کا پورا پورا حق رکھتی ہے۔“ اس تحریک کو یقیناً مخالف خیالات رکھنے والے مسلمانوں کی شدید مخالفت و مخاصمت کا سامنا کرنا پڑا ہے مگریہ مخالفت کرنے والے علمی رنگ میں بات کرنے سے تہی اور کیتھولک ذہنیت کے مظہر نظر آتے ہیں جو اپنے خیالات سے اختلاف رکھنے والوں کو کافر اور دائرہ مذہب سے خارج قرار دیتے ہیں۔“ ” پروفیسر HOUBEN نے اپنے مضمون میں گیارہ نکات ایسے بیان کئے ہیں جہاں ان کے نزد یک جماعت احمد یہ عام مسلمانوں سے اختلاف رکھتی ہے لیکن انکی یہ بات بھی ایسی ہی ہے جیسے رومن کیتھولک مکتب فکر کی موجودہ مغالطہ انگیز شکل ہے (جہاں صرف رومن کیتھولک چرچ کے عقیدہ کو مذہب سمجھا جاتا ہے اور اس سے اختلاف کرنے والے کو دائرہ مذہب سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ناقل ) جماعت احمدیہ کو اسلام سے منحرف صرف اسی وقت کہا جا سکتا ہے جبکہ وہ قرآنی تعلیمات سے روگردانی اختیار کرتی مگر جماعت احمدیہ کا تو یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت (حتی کہ شعشہ تک ) بھی منسوخ نہیں ہے اور نہ آئندہ کبھی ہوسکتی ہے۔نیز یہ کہ اگر کہیں یہ محسوس ہو کہ ایک آیت دوسری کی مخالف ہے تو وہاں پر وہ تضاد اس غلط تشریح کی وجہ سے پیدا ہوا ہو گا جو ان آیات کی کی جارہی ہے۔“ یہ الزام بھی جماعت احمد یہ پر دھرنا کسی صورت میں درست قرار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ ظاہر میں تو