تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 501
تاریخ احمدیت۔جلد 23 501 سال 1966ء جماعت احمدیہ عیسائی علماء کے لئے باعث خوف و ہراس ہے“ کے عنوان سے دیا۔چنانچہ لکھا: پروفیسر ڈاکٹر HOUBEN کا اسلام کے متعلق یہ لکھنا کہ وہ ایک جابر و قاہر اور خوفناک خدا کا تصور پیش کرتا ہے سراسر مغالطہ انگیز ہے اور یہ کہنا کہ اس میں تجدید و احیاء کی قوت کا بالکل فقدان ہے دوراز حقیقت بات ہے۔کیونکہ خود جماعت احمد یہ تجدید واحیائے اسلام کا ایک زندہ ثبوت ہے اور شاید اسی لئے وہ عیسائی علماء کے لئے خوف وہراس کا باعث بنی ہوئی ہے۔کچھ عرصہ ہوا کہ Prof۔Dr۔Camps نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا تھا اور اس جماعت کی طرف سے ہوشیار رہنے کی طرف توجہ دلائی تھی۔“ پھر لکھا: 66 ” جماعت احمدیہ کی طرف سے اسلام کی تجدید و احیاء کی کوشش اس کی بنیادی تعلیمات یعنی قرآن کریم کے عین مطابق ہے۔وہ خدا تعالیٰ کا تصور اپنی مخلوقات سے پیار اور محبت کر نیوالا بتاتی ہے اور اس تعلیم کے نتیجہ میں بین الاقوامی اسلامی اخوت و برادری کی دعوے دار ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس جماعت نے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے والے (FATALISTIC) مسلمانوں میں سے نصف ملین کے قریب لوگوں کے قلوب میں تبلیغ واشاعت اسلام کی روح پھونک کر تبشیری مساعی کی حقیقی تڑپ پیدا کردی ہے اور اس جماعت نے عیسائیت یا مارکسیت سے یہ نظریات مستعار نہیں لئے بلکہ خالص اسلام کے پیغام کو لے کر ایک طرف پرانے خیالات کے (ORTHODOX)مسلمانوں کی اصلاح کی طرف قدم بڑھایا ہے تو دوسری طرف اس پیغام کے ذریعہ عیسائی دنیا اور دہریوں پر اتمام حجت کر رہی ہے۔“ وو یہ درست ہے جماعت احمدیہ ۳۷۵ ملین (۵۵۰ ملین۔ناقل ) مسلمانوں میں ایک چھوٹی سی جماعت ہے مگر پروفیسر موصوف کا ایک چھوٹے فرقہ کے مقابل پر کٹر مسلمانوں کی اکثریت کے حق میں فیصلہ دینا کسی طرح بھی درست نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ اسلام میں ان معنوں میں کٹر (ORTHODOX) اور متحدہ اکثریت موجود ہی نہیں جن معنوں میں کہ کیتھولک عیسائی یہ لفظ استعمال کرتے ہیں بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اسلام میں تو کیتھولک مذہب کی طرح کے اندھے عقائد (DOGMAS)موجود ہی نہیں اور نہ ہی اسلام اپنی تعلیمات پر کسی اور کو حکم تسلیم کرتا ہے۔اس کی تعلیم کا ایک ہی سر چشمہ ہے اور وہ قرآن کریم ہے۔جس طرح کہ اصلاح یافتہ عیسائیوں (REFORMED) کے نزدیک ان کی