تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 497 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 497

تاریخ احمدیت۔جلد 23 497 سال 1966ء گروپ کے تمام طلباء کے نام درج کئے جائیں اور یہ گروپ اس نسخہ کو جامعہ کی لائبریری میں جمع کرا دے۔مقابلہ کے اختتام پر حضور نے اپنے دست مبارک سے یہ خصوصی انعام امانت گروپ“ کو عطا فرمایا جوگروپ کے ایک طالب علم عطاء المجیب صاحب را شد ایم۔اے(سابق مبلغ جاپان، حال مبلغ انچارج انگلستان مشن ) نے حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر حاصل کیا۔مقابلہ کے اختتام پر پہلے محترم سید داؤ د احمد صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے طلباء کو کتاب کا مطالعہ کرنے اور اس سے پورے طور پر استفادہ کرنے سے متعلق ضروری ہدایات دیں۔آخر میں حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے بار بار اور بالاستیعاب مطالعہ کی اہمیت پر ایک بصیرت افروز تقریر ارشاد فرمائی۔تیسرا اجلاس 57 تیسرا اجلاس ۱۴مئی ۱۹۶۶ء کو حضور ہی کی صدارت میں منعقد ہوا۔محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس محترم ملک سیف الرحمان صاحب محترم صاحبزاده 59 مرزا منصور احمد صاحب، محترم مولانا نذیر احمد صاحب مبشر اور محترم مولانا دوست محمد صاحب شاہد نے قرآن مجید کی ان تمیں آیات میں سے جن سے استدلال کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت مسیح علیہ السلام کا وفات یافتہ ہونا ثابت فرمایا ہے۔ایک ایک آیت پیش کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان فرمودہ استدلال کو عام فہم انداز میں پیش کیا اور اس طرح واضح فرمایا کہ حضرت مسیح علیہ السلام تمام دیگر انبیاء کرام کی طرح وفات پاچکے ہیں اور حیات مسیح کا عقیدہ از روئے قرآن مجید درست نہیں ہے۔آخر میں حضور نے عقیدہ وفات مسیح کی اہمیت پر بہت ایمان افروز پیرائے میں روشنی ڈالی اور احباب کو تلقین فرمائی کہ وہ ان عظیم الشان دلائل کو جو وفات مسیح کے حق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں پیش فرمائے ہیں۔نئی نسلوں کے ذہن نشین کرائیں تا کہ کسر صلیب کی عظیم الشان مہم میں وہ بھی کما حقہ حصہ لے کر اس غرض کو پورا کرنے والی بن سکیں جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں جماعت احمدیہ کو قائم فرمایا ہے۔چوتھا اجلاس 60 حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی زیر صدرات اس بابرکت سلسلے کا چوتھا اجلاس ۱ جون ۱۹۲۶ء کو منعقد ہوا۔اس میں علی الترتیب درج ذیل حضرات نے غیر مبائعین کے ساتھ اختلافی مسائل پر تقاریر کیں۔