تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 32
تاریخ احمدیت۔جلد 23 32 سال 1965ء اصطلاحات کے ذریعہ سے بحث کی ہے یعنی حروف کا گر جانا۔حروف کا زیادہ ہو جانا۔حروف کا مقلوب ہو جانا۔حروف کا بدل جانا وغیرہ۔پھر مصنف نے واضح کیا ہے کہ عربی زبان کے الفاظ ان امراض سے بالکل بری ہیں۔اور ان میں حروف کی کمی بیشی ، حذف اور ابدال وغیرہ نہیں پائے جاتے۔کسی لفظ کے ماخذ سے یہ مراد ہے کہ ابتدائی حالت میں اس کی کیا شکل اور کیا معنے تھے کسی لفظ کا ماخذ دریافت کرنے کے لئے معین قوانین بروئے کار لانے پڑتے ہیں۔اس امر کی توضیح کے لئے مصنف نے بڑی بڑی زبانوں کے کثیر روٹوں کی مثالیں دے کر عربی تک پہنچایا ہے اور یہ نتیجہ نکالا ہے کہ چونکہ عربی زبان کے روٹوں کا کھوج باقی تمام زبانوں میں ملتا ہے اس لئے لازماً عربی زبان باقی تمام زبانوں کی ماں ہے۔مظہر صاحب کے نزدیک آرین اور سامی زبانوں کے درمیان گم شدہ کڑی چھ نازک حروف ہیں یعنی ا۔ح۔ع۔ه۔و۔ی اور عرصہ دراز سے آرین زبانیں ان چھ حروف کو گم کر چکی ہیں۔لیکن اگر صحیح طریق پر یہ حروف آرین زبانوں کے دو حرفی روٹوں پر بحال کئے جائیں تو عربی زبان کے سہ حرفی روٹ بحال ہو جائیں گے۔دوسری گمشدہ کڑی حروف Y, G,K اور S ہیں جو اسی مقصد کے لئے بحال کرنے پڑتے ہیں۔جو قواعد اور فارمولے عربی زبان کے روٹوں کا سراغ لگانے کے لئے مصنف نے دریافت کئے ہیں ان کا خلاصہ صفحہ ۱۲۷، ۱۲۸ پر درج ہے۔کتاب کا تیسرا حصہ یعنی ۱۲۹ تا ۳۱۶ وہ ڈکشنری ہے جو مصنف نے مندرجہ ذیل زبانوں کے الفاظ کا سراغ عربی مآخذوں تک پہنچانے کے لئے مرتب کی ہے یعنی انگریزی، فرانسیسی، جرمن، سپینش ، لاطینی، اطالوی، یونانی، روسی، فارسی ، آرین روٹ ہنسکرت، ہندی نیز چینی زبان۔اس ڈکشنری کے شروع میں قارئین کی راہبری کے لئے ہدایات درج ہیں۔جو فارمولے مصنف نے دریافت کئے ہیں ان کی وضاحت برجستہ اور مؤثر مثالوں کے ذریعہ سے بخوبی کی گئی ہے۔کتاب کا مطالعہ نہایت دلکش ہے اور اس کا ہر صفحہ حیرت انگیز ہے۔اس کتاب کی تالیف دوامور پر بنی ہے یعنی لمبے عرصہ تک بڑی بڑی زبانوں کا موازنہ اور علم السان کی کتابوں کا گہرا مطالعہ۔جو بات بظاہر ناممکن تھی اس کتاب کے ذریعہ سے آسان اور ایک حسابی صداقت ہو گئی ہے۔کتاب کا لسانیاتی حصہ جزو ا دیا گیا ہے۔مصنف کا سر چشمہ فیض کتاب ” من الرحمن“ ہے جو تحریک