تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 31
تاریخ احمدیت۔جلد 23 31 سال 1965ء اور اللہ تعالیٰ کی آیات میں سے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف ہے۔جو لوگ علم رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں“۔( ۲۳:۳۰) ظاہر کیا گیا ہے کہ اس آیت میں ایک پیشگوئی ہے کہ زبانوں کے اختلاف کے پیچھے ایک مشترک منبع متحقق ہو جائے گا۔وو اور خدا تعالیٰ نے آدم کو تمام اسماء سکھائے“۔(۳۲:۲) رحمن خدا نے قرآن سکھایا۔اس نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا“۔(۲:۵۵-۵) یہ عربی زبان ہے جو صاف اور واضح ہے۔“ (۱۰۴:۱۱) یہ کتاب کی آیات ہیں جو اپنے بیان میں واضح ہیں“۔(۲:۱۵) یہ بحث کی گئی ہے کہ ان آیات میں یہ دعوئی موجود ہے کہ زبان عربی بنی نوع انسان کی پہلی زبان ہے۔اس کے بعد مصنف نے عربی زبان کی خصوصیات اور اس کی اکملیت پر بحث کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ بمقابلہ عربی سنسکرت اور دوسری زبانوں میں تصنع اور بناوٹ ہے عربی کے روٹوں کا سہ حرفی ہونا سنسکرت کے ۸۰۰ یا ۲۰۰۰ مادوں کے مقابلہ میں عربی کے تقریباً پچیس ہزار مادے۔عربی زبان کا سابقوں اور لاحقوں سے بے نیاز ہونا۔عربی زبان کے الفاظ کا مختلف خاندانوں میں تقسیم ہونا اور ان میں معانی کا ارتقاء پایا جانا۔عربی الفاظ کا وجہ تسمیہ پر مبنی ہونا۔عربی کا تھوڑے الفاظ میں کثیر معانی کو ادا کرنا اس میں دخیل الفاظ کا نہایت قلیل ہونا مصنف نے ان امور پر بحث کی ہے۔تجنیس خطی کی وجہ سے دوسری زبانوں کے اندر عربی زبان کے کئی الفاظ مخلوط ہو کر بعض دفعہ ایک لفظ بن گیا ہے۔مصنف کی رائے میں اس اختلاط کی وجہ یہ ہے کہ عربی حروف تہجی کے باریک فرق کو غیر زبانیں ادا نہیں کرسکتیں مثلاً ص۔ش۔ث کا فرق یا ذ۔ز۔ض۔ظ وغیرہ کا امتیاز۔علاوہ ازیں چھ نازک حروف یعنی۔ح۔ع۔ه۔و۔ی کا امتیاز بھی غیر زبانوں میں قائم نہ رہ سکا۔مصنف نے مثالیں دے کر واضح کیا ہے کہ چینی زبان سنسکرت، ہندی، فارسی ، لاطینی ، اطالوی، یونانی، روسی زبان کے مخلوط الفاظ کا سراغ عربی زبان کے جدا گانہ ماخذوں تک پہنچایا جا سکتا ہے بشر طیکہ صحیح حروف بحال کئے جائیں۔اس کے بعد مصنف نے غیر زبانوں کے الفاظ کے امراض یعنی عیوب پر علم اللسان کی