تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 30
تاریخ احمدیت۔جلد 23 30 سال 1965ء Arabic origin۔The philological weakness of his objection requires exposition at the hands of scholars like the author of this book۔The book is at once a fulfilment and a challenge۔One wishes the Islamic Research Institute, Karachi, the compilers of the Urdu Encyclopaedia of Islam and the Oriental College, Lahore, to pick up the thread and weave the entire web۔" MAQBOOL ELAHI۔13 ترجمہ مصنف کا بیان ہے کہ یہ کتاب زبانوں کے آغاز کے مسئلہ کے متعلق مصنف کی سولہ سالہ مسلسل تحقیق کا نتیجہ ہے۔آغاز زبان کے متعلق جو مختلف نظریات ہیں۔مصنف نے ان پر مختصر بحث کی ہے۔اور ماہرین لسانیات مثلاً ہر ڈر، میکس ملر ، جفرسن وغیرہ کی تصانیف سے برجستہ حوالہ جات دے کر ثابت کیا ہے کہ مذکورہ نظریات ہمیں کسی منزل پر نہیں پہنچاتے اس راستے کو بند پا کر بعض علمائے السنہ نے زبانوں کو منطق اور حکمت سے عاری قرار دے دیا۔بائیبل ، قرآن مجید اور انسائیکلو پیڈیا برٹیز کا کے حوالہ جات پیش کر کے مصنف نے ان علمائے السنہ سے اتفاق کا اظہار کیا ہے جن کے نزدیک خدا تعالیٰ نے خود انسان کو زبان سکھائی اور وہی زبان تمام زبانوں کی ماں ہے۔عام نظریہ یہ ہے کہ زبانوں کے تین بڑے خاندان ہیں یعنی انڈو یورپین ، سامی اور تو رانی۔یہ ثابت ہو چکا ہے کہ سنسکرت آرین زبانوں میں مقدم تر ہے۔سنسکرت کی قدامت اور اس کی گرامر کے تر مکمل ہونے کی وجہ سے ایک عرصہ تک یہ ادعا کیا جاتا رہا کہ غالباً سنسکرت تمام زبانوں کی ماں ہے۔لیکن جب یہ نظر یہ ثابت نہ ہو سکا تو مستشرقین اور علمائے السنہ نے اس بات پر غور نہ کیا کہ زبانوں کے مندرجہ بالا تینوں خاندانوں کا ایک ہی منبع سے نکلنا ممکن ہے۔اس طریق پر شروع میں تو عربی کی طرف سے پہلو تہی اختیار کی گئی اور زاں بعد عربی کے دعوئی پر غور ہی نہیں کیا گیا تاہم اس نا کامی کی وجہ سے بعض علمائے السنہ خصوصاً میکس ملر اس بات کے قائل ہو گئے کہ تمام زبانوں کا منبع ایک ہی ہونا چاہیئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ کسی دن یہ بات ثابت ہو جائے گی۔اس کے بعد مصنف نے قرآن شریف کی مندرجہ ذیل آیات سے استدلال کیا ہے۔