تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 469 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 469

تاریخ احمدیت۔جلد 23 469 سال 1966ء حضرت فضل عمر کی تصانیف کا ریکارڈ ادارہ نے ابتدا ہی سے یہ کوشش کی کہ حضرت فضل عمر کی جملہ تصانیف کتب و رسائل کو جمع کیا جائے۔چنانچہ دوسال میں ہی اُس نے ۱۶۰ کتب ورسائل فراہم کر کے انہیں مجلد کر کے دفتر میں محفوظ کر لیا۔اب فاؤنڈیشن کی طرف سے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی تمام کتابوں، تقاریر اور مضامین کو انوار العلوم کے نام سے شائع کیا جارہا ہے اسی طرح آپ کے خطبات کو خطبات محمود کے نام سے طبع کیا جارہا ہے۔بے مثال مالی قربانی۔بے مثال جد و جہد سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے ۲۵ لاکھ کی تحریک فرمائی تھی مگر مخلصین جماعت نے حضرت فضل عمر کی ذات سے والہانہ اور عاشقانہ عقیدت کا عملی ثبوت دیتے ہوئے تین سال کے اندر ۳۴لاکھ کے وعدے پیش کر دیئے۔جس میں سے سال چہارم تک تینتیس لاکھ کے لگ بھگ وصول ہو چکے تھے۔اور اس سے اگلے سال رپورٹس کے مطابق چونتیس لاکھ کے قریب رقوم اکٹھی ہو چکی تھیں۔اس سلسلہ میں فضل عمر فاؤنڈیشن اور احمدی جماعتوں نے کس طرح بے جگری سے عالمی سطح پر چندہ کی وصولی کی زبر دست مہم چلائی اور کس طرح مخلصین نے اسپر والہانہ لبیک کہی اس کا کسی قدر اندازہ فاؤنڈیشن کی رپورٹس کے مطالعہ سے بخوبی ہو سکتا ہے جو کہ شائع شدہ ہیں۔ان رپورٹس میں سے بعض اعداد و شمار احباب کی دلچسپی کے لئے پیش ہیں۔۱۹۲۹ء کی مجلس مشاورت کے موقع پر سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے ہدایت فرمائی تھی کہ تمام نمائندگان اپنی اپنی جماعتوں کو اس بات سے آگاہ کر دیں کہ مقررہ میعاد یعنی ۳۰ جون تک وصولی کو مکمل کر لیا جائے اس موقع پر حضور نے یہ بھی اعلان فرمایا تھا کہ اس تحریک کے فنڈ کی وصولی اصولی لحاظ سے اس تاریخ کے بعد بند کر دی جائے گی۔چنانچہ اندرونِ پاکستان ۱۹۶۹ء کی شوری تک کل وصولی مع منافع وغیرہ کے جو ۶۳۶ ،۶۶ ، ۲۱ روپے تھی۔اور ۱۵ مارچ ۱۹۷۰ ء تک وعدوں کی وصولی اور منافع وغیرہ کی رقوم شامل کر کے ۲۹٬۹۵،۳۰۷ روپے تک پہنچ گئی تھی۔ادارہ نے وصولی کی اس کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جائزہ تیار کیا ہے۔کہ وعدہ کے