تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 468
تاریخ احمدیت۔جلد 23 468 سال 1966ء مشن کے ابتدائی اخراجات فاؤنڈیشن اپنے ذمے لے۔تیسری تجویز فاؤنڈیشن نے یہ منظور کی کہ قرآن کریم کے فرانسیسی ترجمہ کی طباعت کے اخراجات کے لئے ضروری رقم تحریک جدید کو دی جائے۔اور پھر بعد میں اس کی واپسی کے لئے مناسب تفصیلات تحریک سے طے کی جائیں۔26 صدر انجمن احمدیہ نے خلافت لائبریری سے متعلق فاؤنڈیشن کی پیشکش شکریہ کے ساتھ قبول کر لی۔جس کے بعد قاضی حبیب الدین صاحب انچارج لیاقت میموریل لائبریری کراچی ، انچارج مرکزی خلافت لائبریری اور پاکستانی اور غیر پاکستانی آرکیٹیکٹس سے اس بارے میں مشورہ کیا گیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی منظوری سے لائبریری کی عمارت کے لئے صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر کی مشرقی جانب واقع زمین کا ایک قطعہ معین کر دیا گیا۔جو ۲۰X۱۰ امربع فٹ رقبہ پرمشتمل تھا۔اس کا نقشہ تیار کرنے کا کام جماعت کے تین چار آرکیٹیکٹس کے سپر د کیا گیا۔فاؤنڈیشن کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے خصوصی طور پر یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اس فنڈ سے ذہین اور قابل طلباء کو اعلیٰ تعلیم کی غرض سے ضروری امداد بھی دی جائے گی۔چنانچہ ۱۹۶۷ء میں فاؤنڈیشن نے ایک احمدی نوجوان کو ایک امریکن یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لئے کرایہ کے اخراجات مہیا کر دیئے۔جس پر حضور نے اظہار خوشنودی فرمایا۔اس کے علاوہ حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب، حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب اور مولانا شیخ مبارک احمد صاحب اور خان بشیر احمد خان صاحب رفیق امام مسجد فضل لندن نے انگلستان میں فاؤنڈیشن کے وعدوں میں اضافہ اور اُن کی وصولی کے لئے زبردست جد و جہد فرمائی۔جس کا خاطر خواہ فائدہ ہوا۔اس کی کسی قدر تفصیل اگلے صفحات میں دی جارہی ہے۔متفرق امور کی انجام دہی ابتدا ہی میں اندرونِ پاکستان فضل عمر فاؤنڈیشن کے حسابات کامرس بینک اور یونائیٹڈ بنک میں کھلوا دیئے گئے۔پہلے سال انگلستان میں بھی اکاؤنٹ کھولا گیا۔اور سٹیٹ بنک سے چودہ ملکوں میں حسابات کھلوانے کی منظوری حاصل کی گئی۔اگر چہ حضور نے پچیس لاکھ کی تحریک فرمائی تھی۔لیکن دوسال کے اندر اندر پاکستان اور بیرونی پاکستان کی مخلص جماعتوں کی طرف سے جو وعدے موصول ہوئے۔ان کی مجموعی میزان چھتیں لاکھ ستر ہزار تین سو سینتالیس روپے تک پہنچ گئی۔جو آئندہ دوسالوں میں مزید کئی لاکھ بڑھ چکی تھی۔