تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 467
تاریخ احمدیت۔جلد 23 467 سال 1966ء دوم حضرت مصلح موعود کی جامع سوانح حیات مرتب کی جائے۔جس کے لئے پہلے مکرم ملک سیف الرحمن صاحب بعد ازاں صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب بطور مؤلف تجویز کئے گئے۔نیز فیصلہ ہوا کہ یہ کام ایک ایڈیٹوریل بورڈ کی نگرانی میں کیا جائے جس کے ارکان حسب ذیل مقرر ہوئے۔۲۔۔۴۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب پروفیسرسید میرمحموداحمد ناصر صاحب حضرت سیدہ ام متین صاحبہ سوم سیدنا حضرت فضل عمر نے ربوہ کے پہلے مبارک اور تاریخی سالانہ جلسہ منعقدہ ۶،۱۵ اراپریل ۱۹۴۹ء) کے دوران اخلاق ، عقائد، مذہب، تاریخ اور دیگر دنیوی علوم پر عمدہ کتب اور تحقیقی رسائل شائع کرنے کی ایک مفصل سکیم پیش فرمائی تھی۔24 فاؤنڈیشن نے اس جامع سکیم کی روشنی میں فیصلہ کیا کہ اچھی دینی اور علمی کتب اور رسائل لکھوائے جائیں۔اس غرض کے لئے فاؤنڈیشن نے ایک اعلامیہ جاری کیا۔اور اعلان کیا کہ پہلے سال کے لئے ایک ایک ہزار روپے کے پانچ انعام دیئے جائیں گے۔طویل المیعاد پانچ سالہ منصوبہ حضرت فضل عمر نے مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء میں ایک جامع اور مکمل لائبریری کے قیام کی تحریک فرمائی تھی۔فاؤنڈیشن نے حضرت مصلح موعود کے منشاء مبارک کی تکمیل میں فیصلہ کیا کہ ایک شاندار لائبریری کا انتظام کیا جائے۔جس میں کم از کم پچاس ہزار کتب کی جگہ ہو۔مناسب ریڈنگ روم ہو۔دس سکالرز کے لئے ریسرچ کرنے کی جگہ ہو۔اور لائبریری میں جدید آلات مثلاً مائیکر فلم وغیرہ موجود ہو۔فاؤنڈیشن نے ابتداء ساڑھے تین لاکھ کی رقم لائبریری کی موزوں عمارت کے لئے صدر انجمن احمد یہ کو پیش کرنے کا منصوبہ بنایامگر عملاً اس عظیم منصوبہ پر سوا چار لاکھ روپیہ کے قریب خرچ ہوا۔فاؤنڈیشن نے دوسری تجویز یہ منظور کی کہ جہاں جہاں تحریک جدید کے نزدیک نئے مشن کھولنے کا وقت آچکا ہے مگر تحریک کے فنڈ میں گنجائش نہیں۔اور جماعت پر اس کا بوجھ ڈالنا بھی مناسب نہ ہو تو