تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 459
تاریخ احمدیت۔جلد 23 459 سال 1966ء سے نوازا۔جماعت چٹا گانگ نے مورخہ 4 فروری کو ان بزرگان کے اعزاز میں ایک پبلک میٹنگ دار التبلیغ میں منعقد کی۔جس کا اعلان مقامی اخباروں، ہینڈبل اور خصوصی دعوت ناموں کے ذریعے کیا گیا تھا۔احباب جماعت کے علاوہ کثیر تعداد میں غیر از جماعت نے اس میٹنگ میں شرکت کی۔سب سے پہلے محترم مولوی محمد صادق صاحب نے انڈونیشیا میں دعوت الی اللہ کے حالات سنائے۔اس کے بعد محترم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے مخالفین کے اعتراضات کے جوابات پر مشتمل ایک نہایت مؤثر و مدلل تقریر کی جو بہت توجہ سے سنی اور پسند کی گئی۔اس کے بعد محترم مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے خطاب فرمایا۔اس موقع پر ایک صاحب نے احمدی ہونے کا اعلان کیا۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کا مجلس خدام الاحمدیہ کی تقریب سے خطاب ۱۷ فروری ۱۹۶۶ ء کو حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے مجلس خدام الاحمد یہ ربوہ کی استقبالیہ تقریب میں ” بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام اور جماعت احمدیہ کے موضوع پر معرکہ آراء تقریر فرمائی۔اس ضمن میں آپ نے اپنے ذاتی مشاہدہ اور تجربہ کی بناء پر افریقہ، یورپ ، امریکہ اور جزائر فجی میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی کے نتیجہ میں رونما ہونے والے عظیم الشان روحانی انقلاب کی بعض نہایت ہی ایمان افروز تفصیلات بیان فرمائیں۔نیز بتایا کہ مغربی ممالک میں جہاں پہلے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بد نام کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جاتی تھی۔جماعت احمدیہ کی زبر دست مساعی اور تبلیغی جہاد کے نتیجہ میں اب اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قدرومنزلت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔آپ نے واضح فرمایا کہ ایک غریب جماعت کی یہ تبلیغی مساعی اور ان کے عالمگیر اثرات و نتائج ایک عظیم الشان نشان صداقت کی حیثیت رکھتے ہیں۔کیونکہ حضرت بانی احمدیہ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آج سے ستر سال پہلے اُس وقت جبکہ آپ کو کوئی جانتا تک نہ تھا اور آپ گمنامی اور بے سروسامانی کی حالت میں زندگی بسر کر رہے تھے۔خبر دی تھی کہ لوگ تیرے پاس دُور دُور سے آئیں گے۔اور یہ کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا“۔آپ کی قائم کردہ جماعت کا ستر سال کے عرصہ میں ساری دنیا میں پھیل جانا اور اس کے ذریعہ اسلام کی تبلیغ کا زمین