تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 457
تاریخ احمدیت۔جلد 23 457 سال 1966ء اگر واپسی کا سفر بذریعہ کا رسڑک سے بنالیا جائے تو کوئی اعتراض تو نہیں ہے۔مکرم چوہدری صاحب نے فوری طور پر دریافت فرمایا کہ کار کو ڈرائیو کون کرے گا۔کسی دوست نے خاکسار کا نام لیا تو فرمایا مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ساہیوال میں بھی چونکہ ہر جگہ پر خاکسار ہی کار چلاتا رہا تھا اس لئے لاہور کے لئے بھی خاکسار نے ہی کار ڈرائیو کی۔کچھ وقت اوکاڑہ کے وکلاء کی درخواست پر اوکاڑہ میں بھی ٹھہرے اور وکلاء سے تبادلہ خیال ہوتا رہا۔رات 9 بجے کے قریب لاہور پہنچے۔مکرم اکرام الحق جتالہ صاحب اور مکرم چوہدری عبدالوحید صاحب بھی ہمراہ تھے۔سب کا خیال تھا کہ مکرم چوہدری صاحب کو گھر لاہور چھاؤنی پہنچا کر سب لوگ جلد واپس آجاویں گے مگر چوہدری صاحب نے کار سے اترتے ہی فرمایا کہ کھانا کھا کر جائیں اور اپنے باورچی کو حکم دیا کہ کھانا سب کے لئے لگانا ہے اور کچھ کھانا بڑی کوٹھی سے بھی لے آنا۔مختلف قسم کی باتیں ہوتی رہیں حتی کے رات کے گیارہ بج گئے جب ہم لوگ فارغ ہوئے تو سیدھے کار میں بیٹھ کر ساہیوال روانہ ہو گئے اور اڑھائی بجے صبح کے قریب ساہیوال پہنچ گئے۔ان دنوں سڑکوں پر زیادہ خطرات نہیں ہوتے تھے اور سفر محفوظ ہوتا تھا۔سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کا بھی اتنا زیادہ رش نہیں ہوتا تھا۔اگر چہ سڑکیں اب کی نسبت کم چوڑی تھیں پھر بھی سفر سہولت سے ہوتا تھا۔۵ فروری ۱۹۶۶ء کو حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے لجنہ اماء اللہ ساہیوال سے بھی ایک موقر خطاب فرمایا اس میں انہیں اپنی تربیتی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی اور بتایا کہ بچوں کی تربیت کی اصل ذمہ داری عورت پر ہے اور اس کا بہترین ذریعہ قرآن مجید ہے۔اگر بچے گھروں سے مومن بن کے نکلیں گے تو خدا تعالیٰ اُن کو مومن ہی رکھے گا اگر آپ اُن کی تربیت نہیں کریں گی تو جانوروں میں اور اُن میں کوئی فرق نہیں ہوگا اس سلسلہ میں آپ نے مزید فرمایا کہ: و مجھے اپنی آئندہ نسل کے متعلق بڑا خوف ہے بلکہ موجودہ نسل کے متعلق بھی۔چاہئے کہ ہم پہلوں سے آگے بڑھیں کیونکہ تجربات سے فائدہ اٹھا کر آگے بڑھنا چاہیے یا کم از کم یہ کوشش کرنی چاہیے کہ آئیندہ نسل پہلی نسل کی طرح ہو جائے۔مجھ پر میرے والدین کے بہت سے احسان تھے ایک خاص احسان یہ تھا کہ انہوں نے مجھے قرآن کریم پڑھایا ورنہ میں اجڑ رہ جاتا۔میرے والد صاحب نے مجھے قرآن کریم پڑھانا شروع کیا تو مجھے آنکھوں کی بیماری ہوگئی۔انٹرنس کے امتحان میں جب چھ ماہ رہتے تھے تو والد صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ کتنا قرآن پڑھ چکے ہو میں نے کہا ساڑھے سات سپارے پڑھے ہیں والد صاحب نے کہا کہ میٹرک تک قرآن کریم کا ترجمہ ختم