تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 452
تاریخ احمدیت۔جلد 23 452 سال 1966ء نے فرمایا کہ اگر آپ لوگ اس طرح غور و فکر کی عادت ڈالیں گے تو آپ کو بہت فائدہ پہنچے گا۔اس سے آپ کے ذہن کو جلاء نصیب ہوگی اور نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت ترقی کرے گی۔یہ طریق نا مناسب ہوتا ہے کہ آدمی سوال کرنے کی نیت سے کمرے میں داخل ہو۔اور جو سوال وہ سوچ کر آیا ہو۔خواہ کسی اور سوال کے ضمن میں اس کے اپنے سوال کا جواب آ بھی پچکا ہو۔پھر بھی وہ کھڑے ہو کر اپنا سوال دُہرانے سے باز نہ آئے پھر ایک ضروری بات یہ ہے کہ جواب کو پوری توجہ اور غور سے سننا چاہیے۔بعض اوقات بات کو توجہ سے نہ سننے کے نتیجہ میں انسان یہی سمجھتا ہے کہ سوال کا جواب نہیں ملا۔حالانکہ قصور اسکی اپنی عدم توجہی کا ہوتا ہے۔پھر سوال کرنے والے اور جواب دینے والے دونوں کو اپنی عقل سمجھ او علم پر ناز نہیں کرنا چاہئے۔دونوں ہی کو اپنے محدود علم کا احساس ہو تو پھر سوال و جواب کا سلسلہ صحیح خطوط پر چل کر نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔جو بھی اپنی عقل کو آسمان پر چڑھانا شروع کر دیتا ہے وہ اپنی بے عقلی کا ثبوت مہیا کرتا ہے۔ان اہم ارشادات کے بعد آپ نے حاضرین کو استفسار کرنے کی اجازت دی۔چنانچہ طلباء اور ممبران سٹاف نے باری باری سوال پیش کئے اور آپ نے ان کے جواب دیئے۔سوال و جواب کا یہ سلسلہ نصف گھنٹہ سے زائد عرصہ تک جاری رہا۔سوالات زیادہ تر اعلان تاشقند اور اس کے مضمرات کے بارہ میں تھے۔الرسالہ (جرمنی) میں جماعت احمدیہ کی خدمات کا تذکرہ حکومت مغربی جرمنی کے عربی ہفت روزہ الرسالہ نے اپنی ۴ فروری ۱۹۶۶ء کی اشاعت میں الاسلام و المساجد في ألمانيا“ کے عنوان سے ایک مفصل مضمون شائع کیا۔جس میں جماعت احمدیہ کے ذریعہ یورپ میں کامیاب تبلیغی جہاد کا تذکرہ شاندار الفاظ میں کیا گیا۔چنانچہ لکھا: ترجمہ: اس موقعہ کی مناسبت سے یہاں پر ایک اہم اور حیرت انگیز حقیقت کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری ہوگا کہ جرمنی اور یورپ کی دیگر مغربی ریاستوں میں اسلام کی تبلیغ اور اسلامی امور کی سرانجام دہی کے لئے چُستی اور بیداری صرف اور صرف جماعت احمد یہ ہی تک محدود ہے صرف احمدی ہی ہیں جو اسلام کی دعوۃ وتبلیغ اور اسلام کی خاطر کام کرنے میں یگانہ ہیں۔اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ عام تقلیدی اسلام کے سنی اور شیعہ فرقے یورپ میں تبلیغ کے میدان سے کوسوں دُور ہیں۔اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمارے لئے حیرت انگیز اور تعجب خیز ہے۔اسی طرح دوسری جنگ