تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 448
تاریخ احمدیت۔جلد 23 448 سال 1966ء یہود کو شرمندہ کرنا اسی طور پر ممکن ہے کہ حضرت مسیح ناصری صلیب سے زندہ اتر آئے ہوں۔ورنہ اگر حضرت مسیح صلیب پر وفات پاگئے تھے (بقول عیسائی حضرات ) تو اس صورت میں تو یہود اپنے عقیدہ میں حق بجانب ٹھہریں گے۔الغرض یہ نئے کاغذات بھی جو دستیاب ہوئے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔زرعی کمیٹی کا قیام سیدنا سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے عنان خلافت سنبھالنے کے بعد نگران بورڈ ختم کرتے ہوئے بعض کمیٹیاں بنانے کے امکان کا اظہار فرمایا تھا چنانچہ اس سلسلے میں حضور نے جنوری ۱۹۶۶ء میں حسب ذیل زرعی کمیٹی مقرر فرمائی۔اور یہ ارشاد فرمایا کہ یہ کمیٹی زرعی ترقی کے ذرائع پر غور کرتی رہے گی اور ان پر عمل کرانے میں کوشاں رہے گی۔ا۔ناظر صاحب زراعت ۲۔٣۔۴۔۔(صدر) وکیل الزراعت صاحب تحریک جدید (سیکرٹری)۔چوہدری محمد انور حسین صاحب امیر جماعت احمد یہ ضلع شیخوپورہ (حضرت) مرزا طاہر احمد صاحب چوہدری عنایت اللہ صاحب سرگودھا چوہدری فضل الرحمن صاحب حافظ آباد چوہدری نذیر احمد صاحب مالتان حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا معلمین وقف جدید سے خطاب وقف جدید انجمن احمدیہ کی طرف سے مورخہ ۲۰ جنوری ۱۹۶۶ءکو معلمین کی پہلی با قاعدہ تربیتی کلاس کے اختتام پر ایک تقریب کا اپنے مرکزی دفتر میں انعقاد ہوا۔جس میں حضرت خلیفۃ اسیح الثالث نے بھی شرکت فرمائی۔سب سے پہلے حضور نے فارغ التحصیل طلباء کی جو رضا کاروں کی وردیوں میں ملبوس تھے ، سلامی لی۔اس کے بعد کلاس کے آخری امتحان میں اول اور دوم آنے والے معلمین کو اپنے دست مبارک سے انعامات دئے۔اس کے بعد حضور نے معلمین کو شہریت کے حقوق و فرائض کی طرف لوگوں کو توجہ دلانے کے متعلق فرمایا: