تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 437 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 437

تاریخ احمدیت۔جلد 23 437 سال 1965ء پارٹیوں کے لیڈر بھی شامل تھے۔ان کی آمد پر جہاں ملیشیا کی سیاسی اور لیبر پارٹیوں اور یونینوں کی طرف سے ان کی کئی ایک استقبالیہ دعوتیں اور پریس کا نفرنسیں وغیرہ منعقد ہوئیں وہاں جماعت احمدیہ ملیشیا کی طرف سے بھی انہیں مذہبی نقطہ نگاہ سے خوش آمدید کہہ کر استقبال کیا۔یعنی آسٹریلین ہائی کمشنر مقیم سنگا پور سے مشورہ اور اجازت کے بعد وفد کو حضرت خاتم النبین سید الاولین والآخرین محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر حلقہ بگوش اسلام ہونے کی انہیں دعوت دی گئی۔چنانچہ سب ممبران کو انگریزی میں ایک استقبالیہ ایڈریس پیش کیا گیا۔اور اس کے ساتھ ہی اسلام کی صحیح تعلیم اور حقائق قرآنی پر مشتمل دس انگریزی کتب کا سیٹ علیحدہ علیحدہ ہر ایک ممبر کو پیش کیا گیا۔جسے سب نے جذبات شکر و امتنان کے ساتھ قبول کیا اور متعلقہ کتب کا مطالعہ کرنے کا وعدہ کیا۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مزید اور تفصیلی معلومات کے لئے مشن کی طرف سے وفد کے ممبران کو نہایت مفید انگریزی کتب پیش کی گئیں۔جنہیں انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔سیرالیون امسال سیرالیون میں منعقد ہونے والی مجلس شوری میں مبلغ انچارج مکرم مولوی بشارت احمد صاحب بشیر نے تعلیم نسواں پر خاص زور دیا۔غانا جماعت احمدیہ غانا کی چالیسویں سالانہ کا نفرنس ۷ ۸ ۹ جنوری ۱۹۶۵ءکو سالٹ پانڈ میں منعقد ہوئی۔جس میں سات ہزار کے قریب احمدیوں نے شرکت کی اور مالی قربانی کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے ۴۳۳۳ پونڈ کی رقم خدمت دین کے لئے پیش کی جو گذشتہ سال کی رقم سے ڈیڑھ گنا سے بھی زیادہ تھی یہ قربانی ایسے وقت میں دی گئی جبکہ چندہ ماہ پیشتر جماعتیں اپنی ریجنل کانفرنسوں اور کماسی کے مشن ہاؤس کی تعمیر پر ہزاروں پونڈ چندہ دے چکی تھیں۔کا نفرنس کا افتتاح امیر جماعت غانا مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم کی تقریر سے ہوا۔جلسے کے دیگر احمدی مقررین میں سے مولوی عبدالوہاب صاحب کی تقریر جو لوکل زبان میں تھی بہت مؤثر اور دلچسپ تھی۔آپ نے اپنی تقریر میں حضرت مصلح موعود کے بلند مقام تعلق باللہ اور استجابت دعا اور جماعت کی کامیاب قیادت کے ایمان افروز واقعات بیان کیئے اور حضور کی عظیم الشان دینی خدمات اور کارناموں پر روشنی ڈالی۔جو رہتی دنیا تک یادگار رہیں گے۔