تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 436
تاریخ احمدیت۔جلد 23 436 سال 1965ء کئی ایک نے سوالات بھی کئے جن کے تسلی بخش جوابات دیئے گئے مولوی محمد صدیق صاحب کو گورنر سنگاپورا نچی یوسف بن اسحق صاحب سے مطبوعہ کتب کی ایک نمائش کے دوران ملاقات کا موقعہ ملا۔بعض لوگوں نے اپنے لیکچروں اور پرائیویٹ مجالس میں احمدیوں کو کافر شمار کر کے بائیکاٹ کرنے کی تلقین کی۔مولوی صاحب موصوف نے دوار دو ٹریکٹ شائع کر کے ان لوگوں کی غلط فہمیوں کا پردہ چاک کیا۔انہیں دوستانہ طور پر تبادلہ خیال کی دعوت دی نیز اعلان کیا کہ اگر وہ لوگ قرآن کریم یا کسی حدیث سے احمدیوں کا ارتداد یا کفر ثابت کر دیں تو اسے پانچ سو ڈالر انعام دیا جائے گا مگر کسی کو یہ دعوت قبول کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔بلکہ خود ان کے ہم نواؤں نے انہیں ملامت کی اور بعض نے آپ کے معقول دلائل سے متاثر ہو کر ان سے بیزاری اور جماعت احمدیہ کے برحق ہونے کا اظہار کیا۔اس کشمکش کے دوران ڈاکٹر مہر محمد کے مکان پر دو تین مرتبہ بعض مسلم اکابر سے تبلیغی ملاقاتیں ہوئیں جو کئی کئی گھنٹے جاری رہیں۔راما کرشنا مشن کے زیر انتظام ایک مذہبی کا نفرنس منعقد ہوئی جس میں اسلام کی نمائندگی کا شرف مولوی صاحب موصوف کو حاصل ہوا۔اس موقعہ پر آپ نے وزیر اعظم سنگا پور، یونیورسٹی کے چانسلر اور امریکن اور انڈین سفراء اور دیگر اہم شخصیات سے بھی ملاقاتیں کی اور جماعت احمدیہ سے متعلق ضروری معلومات باہم پہنچائی۔نیز راما کرشنا مشن کی لائبریری کے لئے انگریزی ترجمہ قرآن کریم اور دیگر ہیں (۲۰) اسلامی کتب پر مشتمل ایک سیٹ مشن کے انچارج پنڈت صاحب کو تحفہ پیش کیا جسے انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کر کے اپنے مشن کی کتب بھی جماعت احمدیہ کی لائبریری کے لئے پیش کیں۔اس سال مشن ہاؤس کی عمارت کی سفیدی اور پینٹ وغیرہ کرانے کے علاوہ زائرین کے لئے نیا فرنیچر اور ایک ریفریجریٹر خریدا گیا۔مسجد میں پنکھے لگوانے اور لاؤڈ سپیکر نصب کرنے کا بھی انتظام کیا گیا۔وہ سب کام فوری طور پر ہوئے اور سنگا پور کے مخلص احمدیوں نے نہایت بشاشت کے ساتھ سب مالی اخراجات برداشت کئے۔مشن ہاؤس کے ماحول کی صفائی درستی اور مرمت کے لئے تین چار مرتبہ با قاعدہ وقار عمل بھی کیا گیا۔جس میں سنگا پور کے احمدیوں نے نہایت خندہ پیشانی اور اخلاص سے حصہ لیا۔وسط جولائی ۱۹۶۵ء میں حکومت آسٹریلیا کی طرف سے چھ سر کردہ ممبران پر مشتمل ایک پارلیمانی وفد ملیشیا ( اس کو ملائیشیا بھی لکھتے ہیں ) میں موجود سیاسی ہیجان کے اندرونی و بیرونی اسباب کو بذاتِ خود معلوم کرنے کی غرض سے چند دنوں کے لئے ملیشیا آیا۔جس میں پارلیمنٹ کے حزب مخالف اور لیبر