تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 435
تاریخ احمدیت۔جلد23 لیکچر اسی کتاب کے تعلق میں دیا۔37 435 سال 1965ء سنگاپور امسال آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے بھی بعض خطوط کے ذریعے احمد یہ لٹریچر کے حصول کا مطالبہ کیا گیا چنانچہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ یو نیورسٹی کی لائبریریوں میں اہم لٹریچر ارسال کیا گیا۔ان سب کی طرف سے کتب کی وصولی پر شکریہ کے خطوط بھی موصول ہوئے۔آسٹریلیا سے پارلیمنٹ کا وفد بھی سنگا پور آیا۔اس موقعہ پر بھی ایک تفصیلی خط کے ذریعہ احمدیت کا پیغام ان تک پہنچایا اور اسلام کے متعلق ضروری کتب بھی پیش کی گئیں۔اسی طرح امریکہ کے سینیٹر ایڈورڈ ایم کینیڈی بھی سنگا پور تشریف لائے۔انہیں بھی جماعت کا تعارف کروایا گیا۔38۔ٹوکیو جاپان سے بھی احمدی نوجوانوں پر مشتمل ایک وفد سنگا پور آیا۔ان میں بعض غیر احمدی دوست بھی شامل تھے۔ان کا مشن ہاؤس میں استقبال کیا گیا۔کچھ عرصہ سے ملائیشیا کے طول و عرض میں عیسائی مشنوں نے اپنی تبلیغی مہمات تیز کر دی تھیں قریباً دوسو ملائی مسلمان عیسائی ہو گئے تھے مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری انچارج مشن نے روزنامہ کو تو سن ملایو میں ایک مفصل مضمون شائع کیا جس میں عیسائیت اور اسلام کی تعلیم کا موازنہ کر کے اسلام کی برتری اور صداقت ثابت کی نیز حکومت کو توجہ دلائی کہ وہ احمدیوں کو تبلیغی سہولتیں باہم پہنچائیں تا اس فتنہ کا سد باب کیا جائے۔حکومت نے تو کوئی توجہ نہ کی تاہم احمدی مشن عیسائی پرو پیگنڈا کے مقابلہ کے لئے میدان عمل میں آ گیا۔عیسائی پادری مقابلہ کی تاب نہ لا سکے اور یہ پالیسی اختیار کر لی کہ احمدی مبلغین یا ان سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں سے گفتگو ہی نہ کی جائے۔ایک پادری سے عصمت انبیاء کے موضوع پر آپ کا کامیاب مناظرہ ہوا۔پادری صاحب نے اپنی خفت اور شرمندگی کو مٹانے کے لئے وقتی طور پر نرمی کی تعلیم کا سہارا لے کر اپنی خلاصی کرالی۔اگر چہ پبلک میں سے کئی لوگوں نے انہیں آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ آپ کی باتوں کا معقول جواب دیں مگر پادری صاحب اس قدر شرمندہ ہوئے کہ مولوی محمد صدیق صاحب کو وہیں چھوڑ کر آگے چل دیئے اور دوسرے روز گفتگو کرنے سے بالکل انکار ہی کر دیا۔اس طرح بفضلہ تعالیٰ حاضرین اسلام کے حق میں بہت اچھا اثر لے کر گئے۔