تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 434 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 434

تاریخ احمدیت۔جلد 23 434 سال 1965ء مولوی فضل الہی صاحب انوری انچارج فرانکفورٹ مشن اور چوہدری محمود احمد صاحب چیمہ کو 35 بہت سے جرمن ، عرب، افریقن ، ترک اور ایرانی دوستوں تک پیغام احمدیت پہنچانے کا موقع ملا۔نومبر ۱۹۶۵ء کے ابتدا سے نومسلم جرمن نوجوان مسٹر محمود اسمعیل کی طرف سے اسلام کے اہم بنیادی مسائل پر مشتمل تقریروں کا ایک نہایت مفید اور دلچسپ سلسلہ جاری کیا گیا۔وسط نومبر میں مولوی فضل الہی صاحب انوری مبلغ فرانکفورٹ کو ڈسلڈورف (DUSSELDORF) کے کلب کی طرف سے اسلام میں عورت کا مقام“ کے موضوع پر تقریر کے لئے مدعو کیا گیا۔حاضرین آپ کی تقریر سے بہت محظوظ ہوئے۔تقریر کے بعد سوال و جواب کا ایک لمبا اور دلچسپ سلسلہ شروع ہوا۔ایک صاحب نے کہا کہ یہ مجلس شام ایک دلچسپ ترین مجلس تھی۔اس سفر کے دوران مولوی فضل الہی صاحب انوری کو جرمنی کی بون اور کولون کی عظیم یونیورسٹیوں کے ڈائریکٹر ان اور پروفیسران کو ملنے اور تبادلہ خیالات کا بھی موقعہ ملا۔50 بون (جرمنی) کے ہفت روزہ عربی اخبار "الرسالة" نے ۵ مارچ ۱۹۶۵ء کی اشاعت میں مسجد فرانکفورٹ کی دو تصاویر شائع کیں۔ایک میں مسلمانوں کے عظیم اجتماع کی منظر کشی کی گئی تھی۔مولوی کرم الہی صاحب ظفر مبلغ سپین نے اس سال اعلیٰ حکام اور معززین سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ دینی لٹریچر کی وسیع پیمانے پر تقسیم کی۔اس سلسلہ میں آنریبل SIR D۔RAFAEL CASTE JON پریذیڈنٹ رائل اکیڈمی آف قرطبہ کے نام ایک خط کے ذریعہ اسلامی اصول کی فلاسفی کا تحفہ بھجوایا تھا۔ان کی طرف سے حسب ذیل جواب ملا۔قرطبہ ۳۰ نومبر ۱۹۶۵ء مسٹر کرم الہی ظفر مشن پین۔میرے نہایت ہی مکرم و معظم دوست! آپ کے خط کے ساتھ مجھے اسلامی اصول کی فلاسفی مؤلفہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب ( علیہ السلام) کی ایک کاپی ملی ہے۔میں نے کتاب بڑے گہرے شوق سے پڑھی ہے اس کتاب کی پُر معارف تعلیم سے میں بے حد متاثر ہوا ہوں۔یہ حقیقی طور پر روحانی علم وعرفان کا خزانہ ہے۔اس کتاب کے مطالعہ سے واقعی میرا دل و دماغ معطر ہو گیا۔میں نے یہ کتاب ڈائریکٹر آف انسٹی ٹیوٹ کو بھی مطالعہ کے لئے دی۔ان کا بھی کتاب کے متعلق یہی تاثر ہے۔اور انہیں بھی کتاب بہت پسند آئی ہے۔بلکہ ۲۰ نومبر کو انہوں نے ایک پبلک