تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 433
تاریخ احمدیت۔جلد 23 433 سال 1965ء ان کے ہوٹل پر ان سے ملاقات کی اور انہیں مسجد تشریف لانے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی۔چنانچہ آپ سیرالیون کے سفیر اور سٹاف کے ساتھ مسجد تشریف لائے جہاں ان کے اعزاز میں ڈنر کا انتظام کیا گیا تھا۔اس موقعہ پر مکرم بشیر احمد صاحب رفیق نے انہیں جماعت احمدیہ برطانیہ کی طرف سے خوش آمدید کہا اور سیرالیون میں تعلیم کے میدان میں جماعت احمدیہ کی سرگرمیوں کا تفصیلی تذکرہ کیا۔وزیر صاحب نے جواباً فرمایا کہ وہ سیرالیون میں جماعت کے مبلغ انچارج جناب بشارت احمد صاحب بشیر کے ذاتی دوستوں میں سے ہیں اور جماعت احمد یہ سیرالیون نے تعلیم کے میدان میں جو خدمات کی ہیں ان کے معترف ہیں اور اپنے ملک کی طرف سے جماعت کا شکر یہ ادا کرتے ہیں۔۱۹۶۵ء میں ماریشس کے پہلے وزیر اعظم سر رام غلام انگلستان تشریف لائے۔مکرم بشیر احمد صاحب رفیق نے ان سے ہوٹل میں ملاقات کی۔بڑی تپاک سے پیش آئے اور ماریشس میں جماعتی خدمات کو بڑے زور دار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔اس موقعہ پر ماریشس کے سفیر بھی موجود تھے۔آپ نے سفیر صاحب کو ہدایت کی کہ آئندہ ماریشس ایمبیسی کی طرف سے جو بھی تقریبات لندن میں منعقد ہوں، ان میں امام صاحب کو ضرور بلایا جائے۔جرمنی ۱۹۶۵ء کی دوسری سہ ماہی میں تین جرمن دوست مسٹر ہاٹ موٹ ہنزے، مسٹر شمٹ SCHMIDT اور ڈاکٹر کونگ KONIG حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔مسٹر ہاٹ کچھ عرصہ تک پاکستان میں بھی رہے۔اور پھر وطن آکر فرنکفورٹ مشن سے رابطہ قائم کیا۔حضرت مصلح موعود نے ان کا نام حفیظ احمد تجویز فرمایا۔مسٹر شمٹ بون میں وزرات خارجہ کے دفتر میں ملازم تھے بعض مسلمان افریقن دوست اُنہیں مولوی محمود احمد صاحب چیمہ مبلغ جرمنی کے پاس لائے۔پہلی ملاقات میں ہی ان پر حق کھل گیا اور اگلے ہفتہ انہوں نے بیعت کر لی۔حضرت مصلح موعود نے ان کا نام فرید احمد تجویز فرمایا۔ڈاکٹر کونگ ( بشیر عبداللہ ) ایک ماہر قانون تھے موازنہ مذاہب پر اُن کی گہری نظر تھی۔عیدالاضحیہ کے موقع پر جرمنی اور پاکستانی پریس دونوں نے احمد یہ مشن میں منعقد ہونے والی اس مبارک تقریب کی تصاویر شائع کیں۔اور نمازیوں اور خطبہ کا منظر دکھایا۔